بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ پڑھانے کی فیس وصول کرنا


سوال

اگر کوئی شخص بچوں کو مدرسہ پڑھائے اور مدرسہ پڑھانے کی فیس رکھے، اس میں امیر اور غریب سارے بچے ہوں،  ان بچوں کی فیس کا کوئی دوسرا شخص بندوبست  کرے کہ ان کی فیس میرے ذمہ ہے،  آپ ان کو فری مدرسہ پڑھائیں۔  کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟  اور قاری صاحب کے لیے وہ فیس کے پیسے حلال ہوں گے؟

جواب

بچوں سے تعلیمی فیس لینا درست ہے،  نیز اگر اس فیس کا انتظام کوئی دوسرا شخص کرتاہے تو پڑھانے والے کے لیے یہ رقم لینا جائز ہوگی،  بشرطیکہ  یہ رقم زکاۃ کی مد میں سے نہ ہو۔ ہاں اگر بچے کا والد مستحقِ زکاۃ ہو اور تعاون کرنے والا زکاۃ وغیرہ کی رقم بچے کے والد کو مالک بناکر دے دے کہ وہ جس مصرف میں چاہے صرف کردے، پھر وہ اس سے بچے کی تعلیمی فیس ادا کردے تو اس کی اجازت ہوگی۔ لیکن سوال میں جو صورت مذکور ہے کہ ’’دوسرا شخص یوں کہے کہ بچے کی فیس میرے ذمے ہے، آپ ان کو فری مدرسہ پڑھائیں‘‘ اس صورت میں زکاۃ کی رقم سے پڑھانے والے کو فیس دینا درست نہیں ہے۔

نیز اگرکوئی شخص لوگوں سے مفت تعلیم کا کہہ پھراس طریقے سے فیس وصول کرتاہو تو  پھریہ  اس شخص کی غلط بیانی ہوگی۔ یہ بھی واضح رہے کہ مسجد میں اجرت لے کر بچوں کو پڑھانا مکروہ ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 22):

قال - رحمه الله -: "(والفتوى اليوم على جواز الاستئجار لتعليم القرآن) ، وهذا مذهب المتأخرين من مشايخ بلخ استحسنوا ذلك، وقالوا: بنى أصحابنا المتقدمون الجواب على ما شاهدوا من قلة الحفاظ ورغبة الناس فيهم؛ ولأن الحفاظ والمعلمين كان لهم عطايا في بيت المال وافتقادات من المتعلمين في مجازات التعليم من غير شرط، وهذا الزمان قل ذلك واشتغل الحفاظ بمعائشهم فلو لم يفتح لهم باب التعليم بالأجر لذهب القرآن فأفتوا بالجواز، والأحكام تختلف باختلاف الزمان".

 

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (6 / 428):

"(قوله: ومن علم الأطفال إلخ ) الذي في القنية أنه يأثم ولايلزم منه الفسق، ولم ينقل عن أحد القول به، ويمكن أنه بناء على أن بالإصرار عليه يفسق ، أفاده الشارح. قلت: بل في التاترخانية عن العيون: جلس معلم أو وراق في المسجد فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة. وفي الخلاصة: تعليم الصبيان في المسجد لا بأس به اهـ  لكن استدل في القنية بقوله عليه الصلاة والسلام: جنبوا مسجدكم صبيانكم ومجانينكم".

الفتاوى الهندية - (43 / 34):

"وَلَوْ جَلَسَ الْمُعَلِّمُ فِي الْمَسْجِدِ وَالْوَرَّاقُ يَكْتُبُ ، فَإِنْ كَانَ الْمُعَلِّمُ يُعَلِّمُ لِلْحِسْبَةِ وَالْوَرَّاقُ يَكْتُبُ لِنَفْسِهِ فَلَا بَأْسَ بِهِ ؛ لِأَنَّهُ قُرْبَةٌ ، وَإِنْ كَانَ بِالْأُجْرَةِ يُكْرَهُ إلَّا أَنْ يَقَعَ لَهُمَا الضَّرُورَةُ ، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے