بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مختلف کاروبار میں لگائی رقم پر زکات کا حساب کیسے ہو؟


سوال

میں نے الگ الگ جگہ پیسے انویسٹ کیے ہیں، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا ان پیسوں پہ زکات ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ نے جس جس کاروبار میں رقم انوسٹ کی ہوئی ہے، اس پر بھی زکات ادا کرنا لازم ہے، حساب کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ آپ ہر جگہ سے یہ معلومات حاصل کرلیں کہ آپ کی کتنی  رقم سے تجارتی اشیاء خریدی گئی ہیں، پس ان اشیاء کی قیمتِ فروخت کے اعتبار سے حساب کرکے کل سرمایہ کا ڈھائی فی صد بطورِ زکات ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا، اسی طرح جو رقم نفع کی صورت میں حاصل ہوچکی ہو اس میں جو آپ کا حصہ ہوگا اسے بھی شامل کرکے زکات ادا کرنا ہوگی۔

البتہ آپ کی جتنی رقم سے تجارت کی ضرورت کی اشیاء (مشینری، ٹیبل، کرسی، ریک وغیرہ)  خریدی گئی ہوں، اتنی رقم پر زکات واجب نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200915

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے