بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

محفل میلاد و قیام غیرشرعی ہیں


سوال

مروجہ میلادالنبی اور قیام کے ناجائز اور بدعت ہونے پردلیل بتادیں!

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکر یا آپ کے اوصاف ومحاسن اور عبادات ومعاملات کا ذکرحتی  کہ جس چیز کی ادنیٰ نسبت بھی نبی کریم ﷺکی جانب ہو اس کا ذکر  یقیناً فعلِ مستحسن اور باعثِ اجروثواب ہے۔البتہ مروجہ  میلاداور قیام  کا ثبوت قرآن وحدیث اور صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین میں سے کسی سے نہیں ہے، بلکہ یہ ساری چیزیں بعد کے لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں،اور بدعات میں شامل ہیں، لہذا ان  کا ترک کرنالازم ہے ۔

’’بدعت‘‘  اس عمل کو کہا جاتاہے جسے نیک کامسمجھ کر کیا جائے، اس کا التزام ہو، اس کے نہ کرنے پر نکیر ہو، اور وہ ایسا عمل ہو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعینِ کرام اور تبع تابعین رحمہم اللہ کے زمانے میں اس عمل کی ضرورت ہونے کے باوجود وہ اس پر عمل نہ کریں، یا اس طرح عمل نہ کریں جس کیفیت کے ساتھ اِس دور میں لازم سمجھا جارہاہے۔ 

اب دیکھیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو ہم سے بہت سے زیادہ نیکیوں کے حریص،  ہم سے زیادہ عبادات کا شوق رکھنے  والے  اور ہم سے زیادہ آپ ﷺ کے عاشقِ صادق تھے، انہوں نے اس عمل کو اختیار نہیں کیا، جب کہ انہیں ہم سے زیادہ اس کی ضرورت تھی، اور وہ چاہتے تو یہ کرسکتے تھے، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ سے یہ نہیں سیکھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاں رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی بھی محبوب نہیں تھا، لیکن جب وہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھتے تھے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ کو یہ (قیام) ناپسند ہے۔ (رواہ الترمذی وقال: ہذا حدیث حسن صحیح)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضورِ اکرم ﷺ کا مزاج سمجھتے تھے، اس لیے عشق ومحبت کے باوجود انہوں نے ایسا عمل نہیں کیا جو حضور ﷺ کو ناپسند ہو، اور حقیقی محبت یہی ہے کہ جس میں محبوب کی راحت رسانی ہو، یہ کمالِ محبت نہیں کہ آدمی اپنی چاہت پوری کرکے محبوب کو تکلیف پہنچائے اور پھر اسے اپنی محبت کا تقاضا کہے۔

بہرحال جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں انسانی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی اپنے قیام پسند نہیں فرمایا تو اب آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی یہ عمل آپ ﷺ کو پسند نہیں ہوگا، اور جو عمل آپ ﷺ کو ناپسند ہو اور آپ کی ایذا کا باعث بنے اسے تو قطعاً اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ 

نیز بوقتِ ذکرِ ولادت شریفہ قیام کرنا یعنی یہ سمجھ کر کھڑے ہوجانا کہ رسول اللہ ﷺ اس مجلس میں بنفسِ نفیس تشریف لائے ہوئے ہیں بالکل بے اصل  اور گم راہی ہے، کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ اور کسی بھی شرعی دلیل سے اس کا ثبوت نہیں؛ لہذا ان بدعات سے بچنالازم ہے۔

اسی طرح مروجہ میلاد کی مجالس کا کیوں کہ خاص کیفیات کے ساتھ التزام کیا جاتاہے، اور نہ کرنے والوں کو برا کہا جاتاہے، اس لیے ان کے بدعت ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔

اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے شہیدِ اسلام حضرت مولانامحمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی کتاب ''اختلافِ امت ا ور صراط مستقیم ،ص:86تا98''ملاحظہ فرمائیں ۔

یا مذکورہ مضمون مندرجہ لنک سے بھی حاصل کرسکتے ہیں:

http://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/%D8%B9%DB%8C%D8%AF-%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C-%D8%B5%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D9%88%D8%B3%D9%84%D9%85

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200800

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے