بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1441ھ- 07 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

محض عورت کے مطالبے سے طلاق واقع نہ ہوگی


سوال

ایک دن غصہ میں آکر میری بیوی نے 6 مرتبہ مجھے کہا کہ مجھے فارغ کردیں، اپنے ساتھ نہیں رکھنا، مجھے فارغ کردیں، جب میری یہاں کوئی حیثیت نہیں ہے تو مجھے فارغ کردیں، میں نے خاموشی اختیار کی اور کچھ نہیں کہا ۔کیا ایسی صورت میں نکاح برقرار ہے یا کچھ اثر پڑتا ہے؟

جواب

طلاق واقع ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ شوہر الفاظِ طلاق کا تلفظ زبان سے  کرے ، (خواہ وہ لفظ طلاق کے لیے صریح ہو یا کنایہ)  یا تحریراً لکھ  کر طلاق دے، اگر عورت کے مطالبے پر  آپ نے طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے تو اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما بيان ركن الطلاق، فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالةً على معنى الطلاق لغةً، وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح، وقطع الوصلة ونحوه في الكناية، أو شرعاً، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ، أما اللفظ فمثل أن يقول في الكناية...". (7/46)

البحرالرائق میں ہے :

"( قوله: وهو إزالة حل المحلية في النوعين) أي في الصريح، والكناية وأراد بحل المحلية كون المرأة محلاً للحل أي حل الوطء ودواعيه وقوله: أو ما يقوم مقام اللفظ معطوف على اللفظ في قوله: ركن الطلاق اللفظ، وفسر في البدائع الذي يقوم مقام اللفظ بالكتابة، والإشارة أي الكتابة المستبينة، والإشارة بالأصابع المقرونة بلفظ الطلاق". (9/101)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200132

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے