بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مباشرت میں غسل کب فرض ہوتا ہے؟


سوال

ہم نے سنا  ہے  کہ بیوی سے صحبت /مباشرت  کے بعد غسل کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر منی  نکلے تب غسل فرض ہوجاتا ہے، اور بعض لوگ کہتے  ہیں کہ بس آلہ تناسل اندر ڈالنے سے ہی فرض ہوجاتا ہے۔  شرعی راہ نمائی فرمادیں!

جواب

بیوی سے مباشرت میں اگر مرد کی شرم گاہ کی سُپاری عورت کی شرم گاہ میں داخل ہوجائے تو مرد و عورت دونوں پر غسل فرض ہوجائے گا، اگرچہ انزال (منی خارج ) نہ ہوا ہو،  اور منی نکلنے کی صورت میں بالاتفاق غسل فرض ہوجاتا ہے خواہ  بیوی سے مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتداءِ اسلام میں یہ رخصت تھی کہ  جماع کے دوران انزال نہ ہو تو غسل نہ کیا جائے، بعد میں اس سے منع کردیا گیا، اور یہ رخصت منسوخ ہوگئی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس روایت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ انزال سے غسل ہونے والی حدیث کا تعلق احتلام سے ہے۔ (یعنی جماع سے اس کا تعلق نہیں ہے۔)

"عن أبي هریرة قال: قال رسول الله ﷺ: إذا جلس أحدکم بین شعبها الأربع، ثم جهدها، فقد وجب الغسل وإن لم ینزل. متفق علیه. وعن أبي سعید قال: قال رسول الله ﷺ: إنما الماء من الماء. رواه مسلم. قال الشیخ الإمام محي السنة رحمه الله: هذا منسوخ. وقال ابن عباس: إنما الماء من الماء، في الاحتلام. رواه الترمذي، ولم أجده في الصحیحین". (مشکاة المصابیح، کتاب الطهارة، باب الغسل، الفصل الأول، (ص:47) ط: قدیمي کراچي)

وفیه:

"عن أبي بن کعب قال: إنما کان الماء من الماء رخصةً في أول الإسلام، ثم نهي عنها. رواه الترمذي وأبوداؤد والدارمي". (باب الغسل، الفصل الثالث، (ص:49) ط: قدیمی)

بدائع الصنائع (1/ 36):
"(أما) المجمع عليه فنوعان: أحدهما خروج المني عن شهوة دفقًا من غير إيلاج بأي سبب حصل الخروج كاللمس، والنظر، والاحتلام، حتى يجب الغسل بالإجماع لقوله صلى الله عليه وسلم: «الماء من الماء»، أي: الاغتسال من المني، ... والثاني إيلاج الفرج في الفرج في السبيل المعتاد سواء أنزل، أو لم ينزل لما روي أن الصحابة -رضي الله عنهم- لما اختلفوا في وجوب الغسل بالتقاء الختانين بعد النبي صلى الله عليه وسلم وكان المهاجرون يوجبون الغسل، والأنصار لا، بعثوا أبا موسى الأشعري إلى عائشة -رضي الله عنها- فقالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا التقى الختانان، وغابت الحشفة وجب الغسل أنزل، أو لم ينزل»، فعلت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم. واغتسلنا فقد روت قولًا، وفعلًا. وروي عن علي -رضي الله عنه- أنه قال في الإكسال: يوجب الحد، أفلايوجب صاعًا من ماء!؛ ولأن إدخال الفرج في الفرج المعتاد من الإنسان سبب لنزول المني عادةً فيقام مقامه احتياطًا". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200606

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے