بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جمادى الاخرى 1441ھ- 24 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ماہ ذی الحجہ میں بال کٹوانا


سوال

ذی الحجہ کے مہینے میں  بال کٹوا سکتے ہیں؟منع ہے  کیا بال کٹوانا؟

جواب

حدیث مبارک کی رو سے ذی الحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد سے لے کر قربانی کرنے تک بال ناخن وغیرہ  نہ کاٹنا ان افراد کے لیے مستحب ہے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں، یہ حکم فرض یا واجب نہیں، پس اگر کسی نے اس دنوں میں بال یا ناخن کاٹ لیے تو اس سے قربانی پر اثر نہیں ہوگا۔  نیز وہ افراد جنہیں اپنے غیر ضروری بال یا ناخن کاٹے چالیس دن کی مدت ہو گئی ہو یا ان دنوں میں ہو رہی ہو تو ان کے لیے مذکورہ حکم نہیں ہے، لہٰذا انہیں ان دنوں میں بال، ناخن کاٹنے چاہییں۔

مذکورہ حکم اصل میں تو قربانی کا ارادہ رکھنے والے افراد کے لیے ہے، لیکن وہ افراد جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ، وہ بھی ان دنوں میں اپنے بال یا ناخن نہیں کاٹتے تو  ان شاء اللہ ثواب کے مستحق ہوں گے۔

واضح رہے کہ یہ حکم ذی الحجہ کے پورے مہینے کے لیے نہیں ہے، بلکہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے سے قربانی کرنے تک ہے۔

جامع ترمذی میں ہے:

''عن أم سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من رأى هلال ذي الحجة و أراد أن يضحي فلا يأخذن من شعره و أظفاره''. (١/ ٢٧٨، ط: سعيد)

''العرف الشذی'' میں ہے:

''و مسئلة حديث الباب مستحبة، و الغرض التشاكل بالحجاج''. (١/ ٢٧٨، ط: سعيد)

''مرقاۃ المفاتیح''  میں ہے:

''عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: أمرت بيوم الاضحي عيداً جعله الله لهذه الأمة، قال له رجل: يا رسول الله! أرأيت ان لم أجد إلا منيحة أنثى أفأضحي بها؟ قال: لا! ولكن خذ من شعرك و أظفارك و تقص شاربك و تحلق عانتك، فذلك تمام أضحيتك عند الله. رواه أبو داؤد و النسائي''. (كتاب الأضحية، ٣/ ٣١٦، ط: امدادية)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201884

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے