بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ماہواری میں بیوی کے ساتھ بغیر کپڑے کے جسم ملانے کا حکم


سوال

بیوی کی ماہواری کے ایام میں بغیر کپڑے کے اس کے ساتھ جسم ملانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

ماہواری کے ایام میں بیوی کی ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصے کو دیکھنا یا اس حصے سے بغیر حائل (کپڑے ) کے جسم ملانا جائز نہیں ہے، البتہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصے کے ساتھ کپڑے کے اوپر سے جسم ملانا اور اس حصے کے علاوہ جسم کے باقی حصے کے ساتھ بغیر کپڑے کے اپنا جسم ملانا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 292):

’’(وقربان ما تحت إزار) يعني ما بين سرة وركبة ولو بلا شهوة، وحل ما عداه مطلقاً.

 (قوله: وقربان ما تحت إزار) من إضافة المصدر إلى مفعوله، والتقدير: ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها، كما في البحر (قوله: يعني ما بين سرة وركبة) فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل، وكذا بما بينهما بحائل بغير الوطء ولو تلطخ دماً‘‘.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 292):

’’نقل في الحقائق في باب الاستحسان عن التحفة والخانية: يجتنب الرجل من الحائض ما تحت الإزار عند الإمام. وقال محمد: يجتنب شعار الدم يعني الجماع فقط.

ثم اختلفوا في تفسير قول الإمام: قيل: لا يباح الاستمتاع من النظر ونحوه بما دون السرة إلى الركبة ويباح ما وراءه، وقيل: يباح مع الإزار. اهـ.

ولا يخفى أن الأول صريح في عدم حل النظر إلى ما تحت الإزار، والثاني قريب منه، وليس بعد النقل إلا الرجوع إليه فافهم‘‘.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں