بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ماہانہ نکالے جانے والے نفلی صدقہ کے پیسوں سے بچے کا عقیقہ کرنا


سوال

میں ہر مہینہ اپنی آمدن سے  10 فیصد اللہ کی راہ میں صدقہ دینے کے لیے نکالتا ہوں،  یہ پیسے میں غریبوں، ضرورت مندوں، مساجد، مدرسوں وغیرہ کو دیتا رہتا ہوں۔

کیا ان صدقہ کے پیسوں سے میں اپنے بچے کا عقیقہ بھی کر سکتا ہوں؟

جواب

اپنی آمدن میں سے  10  فیصد حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے کا جو  آپ کا معمول ہے، اسے غریبوں، ضرورت مندوں اور مسجد و مدارس وغیرہ میں خرچ کرنا ہی زیادہ بہتر ہے، اگر استطاعت ہو تو بچے کا عقیقہ الگ پیسوں سے کریں۔ تاہم چوں کہ آپ نے کوئی نذر وغیرہ نہیں مانی ہے؛ اس لیے اگر آپ ان ہی پیسوں سے اپنے بچے کا عقیقہ کرلیں تو یہ بھی جائز ہے، اور ان پیسوں سے بھی عقیقہ ہوجائے گا، لیکن چوں کہ عقیقہ کے گوشت کو تو آپ خود بھی استعمال کریں گے؛ اس لیے وہ پیسے جن کو آپ نے اللہ کی راہ میں خالص دوسروں پر خرچ کرنے کا معمول بنایا ہوا ہے ان پیسوں کو ایسی جگہ لگانا چاہیے، جہاں سے آپ کو کوئی منفعت حاصل نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے