بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جُمادى الأولى 1441ھ- 25 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

ماں کا بیٹے سے سرزد نقصان کو زکاۃ سے ادا کرنا


سوال

ایک لڑکا کہیں کام کرنے گیا اور وہاں غلط کاموں میں لگ گیا اور کسی نے اس کو گاڑی بیچنے کے لیے دی یہ بیچ کر  اس کے پیسے لے کر پاکستان آگیا، اس علاقے میں وہ گاڑی والے پیسوں کے لیے اس کی ماں اور بھابھی کو تنگ کررہے ہیں، کیا اس کی ماں یہ رقم زکاۃ میں سے ادا کرسکتی ہے؟

جواب

مذکورہ صورت مٰیں اصل رقم بیٹے پر ہے  جو کہ مفرور ہے، ماں کے ذمہ نہیں کہ وہ رقم ادا کرے؛ لہذا ماں سے مطالبہ درست نہیں ہے۔  نیز ماں اس مد میں اپنی زکاۃ بھی نہیں دے سکتی اور اپنے بیٹے کو بھی اپنی زکاۃ  نہیں دے سکتی۔

البتہ اگر بیٹا واقعۃً مستحقِ زکاۃ ہے (اور گاڑی کی قیمت بھی اس کے پاس موجود نہیں ہے) تو ماں کے علاوہ بھائی وغیرہ زکاۃ کی رقم کا اس کو مالک بنادیں اور وہ گاڑی کی قیمت ادا کردے تو درست ہے۔

 فتاوی دار العلوم دیوبند جلد 6-76:

’’(سوال ۱۱۶)اگر عوام یہ حیلہ کریں کہ کسی مصرفِ  زکاۃ  کو زکاۃ  دے کر یہ کہے کہ تم میرے بیٹے کو ﷲ دے دو تو انہیں اس حیلہ کی اجازت ہوگی یا نہیں؟  اور زکاۃ  ادا ہوجائے گی یا نہیں؟
(جواب) یہ حیلہ جائز ہے اور زکاۃ  ادا ہوجاوے گی ۔ کذافی الدر المختار۔ ‘‘  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200613

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے