بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 محرم 1442ھ- 18 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مال سپلائی کی گاڑی پر زکاۃ کا حکم


سوال

 اگر کسی کے پاس کوئی گاڑی ہے اس میں کاروبار کرتا ہے، مثلاً اس میں سپلائی کرتا ہے تو کیا اس گاڑی کی قیمت پر زکاۃ ہے یا اس کی کمائی پر ہے؟ اگر کمائی پر ہے تو کیا سال بھر  کی کل کمائی پر زکاۃہے یاسال بھر میں جو کمائی بچت کی ہے اس پر زکاۃ ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ گاڑی کی مالیت پر زکاۃ لازم نہیں ہے،  البتہ اس گاڑی سے جو آمدنی ہوتی ہے ، و ہ  تنہا یا دوسرے قابلِ زکاۃ مال کے ساتھ مل کر نصاب تک پہنچ جائے،   تو  قابلِ زکاۃ اموال  کا سال مکمل ہو نے پر  زکاۃ ادا کرتے ہوئے ا س گاڑی کی آمدنی  کی جو   بچت کردہ  رقم موجود ہو اس کی بھی زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200891

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں