بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مالک کا دکان کرایہ پر دینے سے پہلے پگڑی کی رقم وصول کرنا


سوال

 دوکان کرائے پر لینے سے پہلے دکان مالک پگڑی لیتا ہے،  کیا وہ جائز ہے؟

جواب

دکان کرائے پر لینے سے پہلے پگڑی کی رقم دینے سے کیا مراد ہے ؟

اگر اس سے مراد مروجہ پگڑی سسٹم ہے کہ جس میں مالک پیشگی ایک بڑی رقم لے لیتا ہے، اور پگڑی پر لینے والے کو  عرفاً تقریباً مالکانہ حقوق حاصل ہوجاتے ہیں، اور وہ اس کو فروخت بھی کرتا ہے، البتہ فروخت کراتے وقت رسید بدلنے کی مد میں مالک کچھ فیصد وصول کرتا ہے، اور ہر ماہ معمولی کرایہ بھی ادا کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ ، تو  شرعاً یہ معاملہ جائز نہیں ہے، اس لیے کہ پگڑی    نہ تو مکمل   خرید وفروخت کا معاملہ ہے، اور نہ ہی مکمل اجارہ(کرایہ داری) ہے، بلکہ دونوں کے درمیان کا  ایک  ملا جلامعاملہ ہے، پگڑی پر لیا گیا مکان بدستور مالک کی ملکیت میں برقرار رہتا ہے، لہذا پگڑی کا لین دین شرعاً جائز نہیں ہے، اور رسید بدلنے پر رقم لینا بھی ناجائز ہے،  اگر یہ معاملہ کرلیا ہو تو  جتنا جلدی ہوسکے ختم کرکے اونر شپ   کا معاملہ کرلینا چاہیے  یا طویل مدت کے لیے کرایہ داری کا معاملہ کرلینا چاہیے۔

اور اگر آپ کی مراد یہ ہے کرایہ پر دینے سے پہلے مالکِ دکان یا مکان ایڈوانس اور ڈپازٹ کی مد میں کچھ رقم لیتا ہے اور ویلیو کے مطابق اس کا کرایہ وصول کرتا ہے تو یہ عام کرایہ داری کا معاملہ ہے، اس میں اگر کوئی اور شرعی خرابی نہ ہوتو یہ معاملہ جائز ہے۔

    فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة، وعلى هذا لايجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.

(قوله: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لاتحتمل التمليك ولايجوز الصلح عنها".  (4 / 518، کتاب البیوع،  ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201919

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے