بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

لیٹ کر قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا


سوال

کیا لیٹ کر قرآن مجید کی تلاوت کی اجازت ہے؟

جواب

قرآنِ مجید کی تلاوت کے آداب میں سے ہے کہ با وضو ہو کر پاک جگہ پر بیٹھ کر تلاوت کی جائے، لیٹ کر زبانی  تلاوت کرنا (اگر لباس اور ستر کا اہتمام کیا جائے تو) جائز ہے، البتہ قرآنِ کریم ہاتھ میں ہوتو لیٹ کر تلاوت کرنا خلافِ ادب ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔

 فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 

’’لابأس بقراء القرآن إذا وضع جنبه علی الأرض، ولکن ینبغي أن یضم رجلیه عند القراءة، کذا في المحیط. لا بأس بالقراء ة مضطجعاً إذا أخرج رأسه من اللحاف؛ لأنه یکون کاللبس، وإلا فلا، کذا في القنیة‘‘. (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهية، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح وقراءة القرآن والذکر...، (5/ 316) ط: رشیدیة) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے