بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

لکھے گئے کپڑے کو تکیہ یا دسترخوان بنانا


سوال

کیا کسی تحریر شدہ لکھائی کیے گئے کپڑے سے تکیہ دسترخوان وغیرہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟لکھائی  اگر کسی بھی زبان کی ہو تو  کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی کپڑے پر قرآن کریم کی آیات یا احادیث مبارکہ لکھی گئی ہوں تو آیات مبارکہ یا احادیث مبارکہ  کے ہوتے ہوئے اس کپڑے سے تکیہ یا دسترخوان وغیرہ بنانا جائز نہیں۔

لیکن اگر کپڑے پر قرآن کریم کی آیات یا احادیث مبارکہ کے علاوہ کوئی عام تحریر لکھی گئی ہو تو اس سے تکیہ بنانا جائز ہے، تاہم اسے دسترخوان بنانا مناسب نہیں۔

"لف شيء في كاغذ فيه مكتوب من الفقه، وفي الكلام: الأولى أن لايفعل، وفي كتاب الطب: يجوز، ولو كان فيه اسم الله تعالى أو اسم النبي عليه الصلاة والسلام يجوز محوه ليلف فيه شيء ومحو بعض الكتابة بالريق، وقد ورد النهي عن محو اسم الله تعالى بالبصاق، ولم يبين محو كتابة القرآن بالريق هل هو كاسم الله تعالى أو كغيره ط".(رد المحتار 6 / 387 ط: سعید) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107200209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں