بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

لڑکے کی بلوغت کا حکم


سوال

اگر کوئی لڑکا 9 سال کی عمر میں بالغ  ہوجائے تو  اس پر بلوغت کے تمام احکام جاری ہوں گے؟  دوسری بات یہ کہ اتنی جلدی لڑکا بالغ ہو سکتا ہے؟

جواب

بلوغت یہ ہےکہ لڑکے کو احتلام یا انزال ہوجائے اور لڑکی کو حیض آجائے یا وہ حاملہ ہوجائے،اگرپندرہ سال سے کم عمر میں  ان علامات میں سے کوئی علامت بھی ظاہر ہوجائے تو نماز ، روزہ فرض ہوجائیں گے، ورنہ  قمری حساب سے پندرہ سال کی عمر میں دونوں بالغ سمجھیں جائیں گے،اور نماز پڑھنا، روزے رکھنافرض ہوگا۔ اور یہ علامات  علاقے، موسم اور ماحول کے اختلاف  سے مختلف عمر  میں ظاہر ہوسکتی ہیں۔ فقہائے کرام نے لڑکے کی بلوغت کی عمر کم از کم 12 سال لکھی ہے۔

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (6/ 4472):
"البلوغ: يحدث البلوغ إما بالأمارات الطبيعية أو بالسن. أما الأمارات أو العلامات الطبيعية، فاختلفت المذاهب في تعدادها:
فقال الحنفية (3): يعرف البلوغ في الغلام بالاحتلام، وإنزال المني، وإحبال المرأة. والمراد من الاحتلام هو خروج المني في نوم أو يقظة، بجماع أو غيره".

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (6/ 4473):
"وأدنى مدة البلوغ للغلام اثنتا عشرة سنةً، وللأنثى تسع سنين، وهو المختار عند الحنفية". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200520

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں