بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

لڑکے اور لڑکی کا ان کی رضامندی کے بغیر نکاح کرانے کاحکم


سوال

 لڑکا اور لڑکی دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے اور پھر بھی ان کے بڑے ان کی زبردستی شادی کرانا چاہتےہیں تو شریعت میں یہ شادی جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی پر نکاح کے معاملہ میں جبر اور زبردستی کرنا درست نہیں، والدین کو چاہیے کہ نکاح کے معاملہ میں اپنے بچوں کی پسند کی رعایت کریں، لیکن اولاد کو بھی چاہیے کہ والدین کو اپنا خیرخواہ سمجھتے ہوئے ان کی پسند کو  اپنی پسند پر ترجیح دیں ؛ اس لیے کہ عموماً والدین اور بزرگوں کے طے کردہ رشتے آگے چل کر خوش گوار ثابت ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ ایک چیز فی الحال ناپسند ہو لیکن بعد میں وہ خیر اور محبت کا ذریعہ بن جائے، اور جو رشتے وقتی جذبات سے مغلوب ہوکر کیے جاتے ہیں تجربہ شاہد ہے کہ عموماً وہ ناپائیدار ہوتے ہیں، وقتی پسند بعد میں ناپسندیدگی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

بہر حال اگر والدین کے اصرار پر  لڑکے اور لڑکی نے زبانی طور پر اجازت دے دی اور ایجاب قبول کر لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200792

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے