بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

لڑکے اور لڑکی والوں کا مل کر ولیمہ اور رخصتی کی دعوت ایک ساتھ کرنے کا حکم


سوال

میری بہن کا نکاح ہو چکا ہے،  لیکن رخصتی نہیں ہوئی ہے . اب کیا لڑکے اور لڑکی والے ولیمہ اور رخصتی کا ایک ہی فنکشن کرنا چاہ رہے ہیں،  تا کہ اخراجات کم ہو سکیں.کیا یہ اسلامی لحاظ سے ٹھیک ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں لڑکی والے اگر لڑکے والوں کے ساتھ مل کر رخصتی کے بعد ولیمہ اور رخصتی کی دعوت ایک ساتھ کرنا چاہیں تو  اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم واضح رہے کہ اسلامی و شرعی لحاظ سے شادی کی تقریبات میں سے صرف ولیمہ کی دعوت سنت سے ثابت ہے جو رخصتی کے بعد کی جاتی ہے،  باقی رخصتی  کی تقریب اور دعوت سنت سے ثابت تو نہیں ہے، البتہ اگر لڑکی والے اپنی خوشی سے ، عار سے بچنے کے  لیے مجبور ہوئے بغیر، اپنی حیثیت کے مطابق  رخصتی کی دعوت کرنا چاہیں تو اس کی اجازت ہے۔  البتہ اس کو ولیمہ کی طرح سنت نہیں سمجھنا چاہیے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201488

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے