بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کی رضامندی کے بغیر زبردستی کرائے گئے نکاح کا حکم


سوال

میں ایک لڑکی کو 16 سال سے چاہتا تھا اور وہ بھی مجھے چاہتی تھی، لڑکی کے گھر والے ایک دفعہ رضا مند ہو گئے،  لیکن بعد میں لڑکی کا والد غیر برادری کی وجہ سے انکاری ہو گیا اور لڑکی کی رضا مندی کے بغیر زبردستی اور اسے امو شنل بلیک میل کر کے اس کا نکاح کسی دوسرے لڑکے سے کر دیا تو کیا یہ نکاح جائز ہو گیا؟

جواب

اگر لڑکی نے نکاح پر رضامندی دے دی تھی،  اگر چہ وہ دل سے رضامند نہیں تھی تو نکاح منعقد ہوگیا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200893

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے