بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1441ھ- 20 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

لندن والوں کی میقات


سوال

لندن والوں کی میقات کیاہے ؟ اگر وہ ایئرپورٹ سے نکل جائیں، اب احرام کہاں سے باندھیں گے؟ 

جواب

آفاقی (میقات سے باہر رہنے والے) شخص کے لیے میقات سے پہلے احرام باندھ کر نیت کرنا ضروری ہے. احادیث میں مختلف علاقوں سے آنے والوں کے لیے میقات (وہ جگہیں جہاں سے احرام باندھنا ضروری ہے)مقرر کی گئی ہیں، جو درج ذیل ہیں:

(1) ذوالحلیفہ:  یہ اہلِ مدینہ اور وہاں سے گزرنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ مدینہ منورہ سے طریقِ  ہجرت پر چھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے، یہاں ایک شان دار ’’مسجدِ میقات‘‘ بنی ہوئی ہے۔ آج کل اس مقام کو ’’بئر علی‘‘ یا ’’آبارِ علی‘‘ کہاجاتاہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں یہیں سے احرام باندھا تھا، اس مقام سے مکہ معظمہ کا فاصلہ۴۱۰؍کلومیٹر ہے۔ مکہ مکرمہ سے شمال کی جانب سے آنے والوں کی یہ میقات ہے۔
(۲) جُحفہ:  جو لوگ مصر وشام سے تبوک  سے ہوتے ہوئے مکہ کا سفر کریں، ان کے لیے ’’جحفہ‘‘ میقات ہے۔ یہ مکہ مکرمہ کے مغرب کی جانب سے آنے والے لوگوں کی  میقات ہے۔
آج کل یہ جگہ متعین نہیں ہے؛ اس لیے اس کے قریب ’’رابغ‘‘ نامی ساحلی قصبہ سے احرام باندھا جاتا ہے، جو طریقِ بدر پر واقع ہے، اس جگہ سے مکہ معظمہ کی مسافت۱۸۷؍کلومیٹر ہے۔
(۳) قرن المنازل:  نجد سے آنے والے لوگوں کے لیے ’’قرن المنازل‘‘ میقات ہے، اس مقام کو آج کل ’’السیل‘‘ کہا جاتا ہے، یہاں سے مکہ معظمہ کا فاصلہ تقریباً۸۰؍کلومیٹر ہے۔ مکہ مکرمہ کے جنوب مشرق کی جانب سے آنے والے لوگوں کے لیے یہ میقات ہے۔
(۴) یلملم:  یہ اہلِ یمن کے لیے میقات ہے، اس کو آج کل ’’سعدیہ‘‘ کہا جاتا ہے، یہاں سے مکہ معظمہ کا فاصلہ۱۲۰؍کلومیٹر یا اس سے کچھ زائد ہے۔ مکہ مکرمہ کی جنوب کی جانب سے آنے والوں کی یہ میقات ہے۔ 
(۵) ذات عرق:  یہ عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اہلِ عراق کے سوال کے جواب میں اس کے میقات ہونے کی صراحت فرمائی تھی۔ یہاں سے مکہ معظمہ کی مسافت۹۰؍کلومیٹر ہے۔ آج کل اس مقام کا نام ’’عتیق‘‘ ہے اور یہ مکہ مکرمہ کی شمال مشرق سے آنے والوں کی میقات ہے۔ 

اس کے علاوہ جو لوگ جس جانب سے بھی حرم کے لیے آئیں گے، ان کو مذکورہ مواقیت کی سیدھ سے کزرنے سے پہلے احرام باندھنا لازم ہوگا، خواہ وہ خشکی پر سفر کررہے ہوں یا ہوائی جہاز سے سفر کررہے ہوں۔

چنانچہ لندن سے آنے  والے لوگوں کا ہوائی جہاز جس میقات کے اوپر یا اس کی محاذات سے گزرے گا اس سے پہلے پہلے احرام باندھنا ضروری ہوگا۔ 

’’عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما قال: وقّت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم لأهل المدینة ذا الحلیفة ولأهل الشام الجحفة ولأهل نجد قرن المنازل ولأهل الیمن یلملم، فهن لهن ولمن أتی علیهن من غیرهن لمن کان یرید الحج والعمرة، فمن کان دونهن فمهله من أهله، وکذٰلک حتی أهل مکة یهلون منها‘‘. (صحیح البخاري۱؍۲۰۶)
’’أخبرني أبو الزبیر أنه سمع جابر بن عبد اللّٰه رضي اللّٰه تعالیٰ عنه یسئل عن المهل فقال: أحسبه رفع إلی النبي صلی اللّٰه تعالیٰ علیه وسلم، فقال: مهل أهل المدینة من ذي الحلیفة والطریق الأٰخر الجحفة، ومهل أهل العراق من ذات عرق، ومهل أهل نجد من قرن، ومهل أهل الیمن من یلملم‘‘. (صحیح مسلم۱؍۳۷۵، نخب الأفکار۶؍۳۶
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے