بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

لاہوری مرزائی کا کفر


سوال

میرا سوال قادیانیوں کے لاہوری گروپ سے متعلق ہے۔ لاہوری حضرات مرزا کو نبی نہیں مانتے، بلکہ مصلح مانتے ہیں تو ان کی تکفیر کی کیا دلیل ہے؟ وہ مرزا کے دعاوی کو صوفیا کرام کے الہامات سے تشبیہ دیتے ہیں اور کئی صوفیا کرام کے حوالے بھی دیتے ہیں کہ بڑے بڑے صوفیا کرام کے ایسے دعوے موجود ہیں جو وہ غلبہ حال میں کردیتے تھے۔ اور باقاعدہ کتابوں میں وہ الہامات شایع شدہ بھی موجود ہیں، لیکن ہم ان کی تاویل کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہم لاہوریوں کو تاویل کا حق کیوں نہیں دیتے کہ وہ مرزے کے الہامات کی ویسی تاویلات کریں جیسے ہم اپنے صوفیا کے اقوال اور بعض دعووں کی کرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر صوفی خود کو اللہ کہہ کر بھی مسلمان رہ سکتا ہے تو ایک مصلح نے اگر غلبہ حال میں کوئی ایسی بات کہہ دی تو ہم اس کی تاویل کریں گے۔ 

جواب

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوی باطلہ کی بنیاد پر  قرآن وسنت کی واضح نصوص اور اجماع امت کی بنا پر قطعی کافر اور مرتد ہے، انہی وجوہات کی بنا پر مرزا کے ایسے معتقدات کو اپنانے والے، ان کا اتباع کرنے والے، یا اس کی تصدیق و تائید کرنے والے، یا اس میں کسی قسم کی تاویل کرنے والے بھی باجماع امت کافر اور مرتد ہیں ، مرزا کے مرنے کے بعد  ان کے متبعین کی ایک جماعت جو لاہوری کہلاتی ہے جس کی قیادت مولوی محمد علی لاہوری نے کی ، اس نے مرزا کے واضح اور غیر مبہم دعوی کی تکفیر (جو ہر مسلمان کا عقیدہ ہے) کے بجائے اس میں تاویلیں کرنا شروع کردیں، بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے اسے چودھویں صدیں کا مصلح اور مجدد مانا اور مسیح موعود تک کہا ہے، اس کے علاوہ بھی لاہوری گروپ کے بہت سے عقائد کفریہ ہیں جو "احتساب قادیانیت" کے حوالہ سے ذیل میں نقل کی جاتی ہیں :

لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں۔ جس کے کئی دلائل ہیں۔
    اوّل…    یہ کہ مسیح موعود کے متعلق امت کا متفقہ عقیدہ ہے اور احادیث میں بھی اس کی تصریح ہے کہ وہ نبی ہے۔ مگر لاہوری مرزائی اس کی نبوت سے منکر ہیں۔ اس بنا پر وہ بھی کافر ہیں۔
    دوم…    امت کا اجماع ہے اور قرآن وحدیث اس پر متفق ہیں کہ آنے والے مسیح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہیں۔ ایسے قطعیات کا منکر کافر ہے۔
    سوم…    مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت میں شک نہیں۔ چناں چہ مرزامحمود نے اپنی کتاب ’’حقیقت النبوۃ‘‘ میں اس کے لیےضرورت سے زیادہ مواد جمع کردیا ہے اور یہ لاہوری مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ وہ صرف اس کی تاویل کرتے ہیں کہ نبی سے مراد محدث ہے۔ لیکن محدث کی تشریح وہی نبی والی کرتے ہیں کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ جو دخل شیطانی سے محفوظ ہوتی ہے اور انبیاء کی طرح وہ مامور ہوتا ہے۔ انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے۔ (یعنی دعویٰ کرے) اور اس کا منکر مستوجبِ سزا ٹھہرتا ہے اور آیت سورہ جن کی ’’اِلَّا مَنِ ارْتَضیٰ مِن رَّسُوْلٍ‘‘ اس کو شامل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ اپنے رسولوں پر غیب کی خبریں کھولتاہے۔
    یہ سب حوالہ جات کتاب ’’نبوۃ فی الاسلام‘‘ مصنفہ مولوی محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور میں موجود ہیں۔ خصوصاً اس کا بابِ چہارم قابل ملاحظہ ہے۔
پس جب محدث کی تشریح نبی والی ہے تو معلوم ہوا کہ درحقیقت مرزائی دونوں گروہ مرزاغلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ لہٰذ امرزائی لاہوری اور قادیانی میں کوئی فرق نہ رہا۔ کیوں کہ درحقیقت لاہوری بھی قادیانیوں کی طرح مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔
    چہارم…    مولوی محمد علی نے (ضمیمہ نبوۃ فی الاسلام ص۱۰۵ بحوالہ اشتہار، ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۰۸) مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ذکر کیا ہے کہ میرا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ کیوں کہ میری نبوت محمدﷺ کی نبوت ہے۔ خواہ بطورِعکس ہو اور ظاہر ہے کہ عکس انہی کمالات کا مظہر ہے جو اصل میں ہوتے ہیں۔ پس عکس کا انکار اصل کا انکار ہے اور اصل کا انکار تو لاہوری مرزائی کے نزدیک بھی کفر ہے۔ پس عکس کا انکار بھی کفر ہوا۔     نتیجہ ظاہر ہے کہ لاہوری مرزائی بھی مرزاغلام احمد قادیانی کو وہی درجہ دیتے ہیں جو قادیانی دیتے ہیں۔ لفظ خواہ محدث بولیں یا نبی۔ پس لاہوری قادیانی ایک ہی ہیں۔
    پنجم…     مولوی محمد علی نے اس کتاب کے صفحہ۱۰۲ میں بحوالہ (اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴) مرزاغلام احمد قادیانی کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات، انجیل اور قرآن کریم پر۔‘‘
    پس جب یہ وحی ایسی ہی قطعی ہے۔ جیسی کتبِ مذکورہ، تو پھر کتب مذکورہ کی طرح اس کا منکر بھی کافر ہوا۔ نتیجہ وہی ہے جو ابھی ذکر ہوا۔
    ششم…    نبوۃ فی الاسلام ص۷۶ میں (ازالہ اوہام ص۵۷۶، خزائن ج۳ ص۴۱۱) سے نقل کر کے بطور خلاصہ لکھا ہے کہ: ’’خواہ موجودہ احکام (اسلامی عقائد صوم وصلات، زکات، حج وغیرہ) ہی بذریعہ جبریل وحی نبوت سکھائے جائیں تو یہ ایک نئی کتاب اﷲ ہوگی۔‘‘
    ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص۱۰۳ میں بحوالہ (اربعین نمبر۶ ص۶۰۷، خزائن ج۱۷ ص۴۳۶) لکھا ہے: ’’خداتعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ زنا نہ کرو۔ خون نہ کرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا شریعت ہے۔ جو مسیح موعود کا ہی کام ہے۔‘‘
    نبوت فی الاسلام کے ص۷۵ میں بحوالہ تریاق القلوب لکھا ہے: ’’یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ایسے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا نہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدید لاتے ہیں۔ لیکن صاحبِ شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جنابِ الٰہی میں شانِ اعلیٰ اور خلعتِ مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے  انکار سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔‘‘           (تریاق القلوب ص۱۳۱ حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)
    ان عبارتوں کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا منکر کافر ہے۔ کیوں کہ وہ صاحبِ کتاب اور صاحبِ شریعت ہے۔ جس کو وہی احکام بطور تجدید ملے۔
    ہفتم…    (نبوت فی الاسلام ص۳۱۶ پر بحوالہ دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳) پر لکھا ہے کہ: ’’میں اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔‘‘
    اور (نبوت فی الاسلام ص۳۰۲، بحوالہ حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹) پر لکھتا ہے کہ: ’’آنے والا مسیح جو آخری زمانہ میں آئے گا۔ اپنے جلال اور قوی نشانوں کے لحاظ سے پہلے مسیح یا پہلی آمد سے افضل ہے۔‘‘
    ان عبارات کا مطلب واضح ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی صداقت کے نشان پہلے مسیح سے زیادہ قوی، زیادہ شان وشوکت اور جاہ وجلال رکھتے ہیں۔ پس جب پہلے مسیح کامنکر کافر ہے تو جس کی شان پہلے مسیح سے بڑی ہے، ان کا منکر بطریق اولیٰ کافر ہوا۔
    ہشتم…    نبوت فی الاسلام ص۱۴۰ پر بحوالہ (تحفہ بغداد ص۱۸، خزائن ج۷ ص۳۴) لکھا ہے کہ: ’’لا شک ان من اٰمن بنزول المسیح الذی ھو نبی من بنی اسرائیل فقد کفر بخاتم النبیین‘‘ {کوئی شک نہیں کہ جو شخص اس مسیح کے نزول پر ایمان لایا جو بنی اسرائیل سے ایک نبی ہے، اس نے خاتم النبیینؐ کے ساتھ کفر کیا}
    اس عبارت میں مرزاقادیانی نے اپنے تمام مخالفوں کو کافر کہا ہے اور لاہوری مرزائی اس کو پیش کر رہے ہیں اور یہی قادیانیوں کا عقیدہ ہے۔ پس لاہوری اور قادیانی ایک ہی ہوئے۔
    نہم…    امت اسلامیہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آنے والا مسیح حکومت اور سیاسی شان کے ساتھ آئے گا۔ احادیث صحیحہ میں بھی اس کی تصریح ہے کہ وہ حکم عدل یعنی باانصاف حاکم ہوگا۔ جنگ کرے گا۔ دجال کو قتل کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے متواتر اور متفقہ عقیدہ کا منکر کافر ہے۔ پس لاہوری مرزائی بھی کافر ہوا۔ کیوں کہ وہ بجائے اس کے ایسے شخص کو مسیح موعود مانتا ہے جو حکومت اور سیاست کے ساتھ نہیں آیا۔
    دہم…    یہ کہ حیات مسیح بھی اہل اسلام کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان پر اب زندہ ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے التلخیص الحبیر میں اس پر اجماع نقل فرمایا ہے۔ لاہوری مرزائی ان قطعیات کے منکر ہیں۔ لہٰذا وہ بھی قادیانیوں کی طرح کافر ہیں۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘۔

    اس قسم کی اور بھی بہت وجوہات ہیں۔ بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اربعین میں خود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیاہے اور یہ لاہوری مرزائیوں کو بھی مسلم ہے کہ صاحب شریعت کی نبوت کا انکار کفر ہے۔               (ملاحظہ ہو نبوۃ فی الاسلام ص۷۵،۷۶)  

  خلاصہ یہ کہ مرزائی لاہوری ہوں یا قادیانی دونوں تمام علماء کرام کے متفقہ فتوی کی رو سے کافر  اور مرتد ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے