بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

قیام اللیل کی جماعت کرنا


سوال

قیام اللیل با جماعت پڑھنا کیسا ہے ؟

جواب

’’قیام اللیل‘‘  رات میں پڑھی جانے والی نفل نماز کو کہتے ہیں، اور رمضان کی تراویح ، صلاۃ الکسوف اور صلاۃ الاستسقاء کے علاوہ کسی بھی طرح کی نفل نماز کا باقاعدہ جماعت کے ساتھ اس طرح اہتمام کرنا کہ اس میں مقتدیوں  کی تعداد تین سے زائد ہو ، یہ  مکروہِ تحریمی ہے، لہذا قیام اللیل تنہا ادا کرنی چاہیے۔اور ایسی جماعت میں بھی شرکت نہ کی جائے۔

اور اگر رمضان میں جماعت کے ساتھ قیام اللیل کرنا ہو تو اس کی  صورت یہ ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد  تراویح پڑھتے ہوئے تراویح  کی کچھ رکعت چھوڑدی جائیں، اور پھر ان رکعات کو  رات میں باجماعت پڑھ لیا جائے، اس میں کسی قسم کی قباحت بھی نہیں ہوگئی اور قیام اللیل کا ثواب بھی مل جائے گا، اور اس میں  نیت بھی تراویح  کی ہی نیت کی جائے گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں