بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

قیامت کے دن سب سے پہلے پوچھی جانے والی بات


سوال

قیامت کے دن سب سے پہلے کون سی بات پوچھی جائے گی؟

جواب

اس بارے میں دو طرح کی  روایتیں  کتبِ احادیث میں ملتی ہیں، ایک روایت میں وارد ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا، اور دوسری روایت میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ناحق خون (قتل) کا حساب لیا جائے گا، شارحین حدیث نے ان دونوں روایات کے درمیان یہ تطبیق بیان کی ہے کہ قیامت کے دن  حقوق اللہ میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، اور حقوق العباد میں سے سب سے پہلے ناحق خون (قتل) کا حساب لیا جائے گا۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (23/ 112):
"حدثنا عمر بن حفص حدثنا أبي حدثنا الأعمش حدثني شقيق قال: سمعت عبد الله رضي الله عنه، قال النبي صلى الله عليه وسلم: (أول ما يقضى بين الناس بالدماء).
قوله: (بالدماء) وفي رواية الكشميهني: في الدماء. والمعنى: القضاء بالدماء التي كانت بين الناس في الدنيا. فإن قلت: روى أبو هريرة مرفوعًا: (أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته)؟ قلت: لا تعارض بينهما، لأن الأول فيما يتعلق بمعاملات الخلق، والثاني فيما يتعلق بعباده الخالق".

شرح النووي على مسلم (11/ 167):
"(قوله  صلى الله عليه وسلم: (أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء) فيه تغليظ أمر الدماء، وأنها أول ما يقضى فيه بين الناس يوم القيامة، وهذا لعظم أمرها وكثير خطرها، وليس هذا الحديث مخالفًا للحديث المشهور في السنن: أول ما يحاسب به العبد صلاته؛ لأن هذا الحديث الثاني فيما بين العبد وبين الله تعالى، وأما حديث الباب فهو فيما بين العباد والله أعلم بالصواب". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200636

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے