بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1441ھ- 04 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

قومی بچت کے نفع کا حکم


سوال

میں نے قومی بچت میں مبلغ 5000 جمع کیے تھے 10سال کے لیے، وقتِ مقررہ سے پہلے میں نے اپنی رقم نکالی۔اس قومی بچت نے مجھے مبلغ 80000روپے منافع دیا۔  سوال یہ ہے کہ یہ رقم جو مجھے ملی ہے حلال ہے یا حرام؟ اگر حرام ہے یا سود ہے تو  میں اس رقم کا کیا کروں؟ دوبارہ قومی بچت میں جمع کروں؟

جواب

آپ نے جس قدر رقم جمع کروائی تھی وہ (اصل رقم) آپ کی ملکیت ہے، اسس سے زائد تمام رقم سود ہے، اس کا استعمال آپ کے لیے جائز نہیں ہے، ممکن ہو تو یہ زائد رقم اسی ادارے کو  ایک خط لکھ کر واپس کردیں؛ کیوں کہ یہ سودی رقم ہے ۔ اور  اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی غریب کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کردیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201468

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں