بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

قنوت اور دعاءِ قنوت میں فرق


سوال

قنوت پڑھنا واجب ہے، جب کہ دعاءِ قنوت ’’ اللّٰهم إنا نستعينك... الخ‘‘ سنت ہے۔ 

قنوت اور دعاءِ قنوت میں فرق بیان فرما دیں!

جواب

’’قنوت پڑھنا واجب ہے‘‘  کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی دعا بطورِ قنوت (مثلاً: ربنا أٰتنا في الدنیا حسنة ... الخ) پڑھنے سے بھی واجب ادا ہو جائے گا۔  لیکن سنت (مستحب) یہ ہے کہ معروف الفاظ  والی دعائے قنوت پڑھی جائے، نہ کہ اس کے علاوہ کوئی اور دعا۔

’’وليس في القنوت دعاء مؤقت، كذا في التبيين. و الأولي أن يقرأ : اللّهم إنا نستعينك و يقرأ بعده اللّهم اهدنا فيمن هديت. و من لم يحسن القنوت يقول: "ربنا آتنا في الدنيا حسنةً وفي الآخرة حسنةً و قنا غذاب النار"، كذا في المحيط. أو يقول: اللّهم اغفرلنا، و يكرر ذلك ثلاثاً، وهو اختيار أبي الليث، كذا في السراجية‘‘. (الباب الثامن في صلاة الوتر، ١/ ١١١، ط: رشيدية)  فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144103200564

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے