بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

قفیز الطحان میں حاصل شدہ آٹے کا استعمال


سوال

’’قفیز الطحان‘‘  میں حاصل شدہ آٹے کا استعمال کیسا ہے؟اور اس کا دوسرے آدمی کے لیے خریدنا کیسا ہے؟

جواب

قفیز طحان اجارہ فاسدہ کی ایک صورت ہے ، اس میں  عامل کو اجرت مثل دی جائے گی اور تمام آٹا مالک کی ملکیت میں ہوگا۔ مالک  کے لیے اس آٹے کا استعمال جائز ہوگا اورآگے کسی دوسرے آدمی کو بیچنا بھی جائز ہوگا، اس آٹے میں سے اجیر کو کچھ نہ دیا جائے گا۔

البتہ اگر اس مالک نے آٹا  پیسنے والے کو اجرت میں دےدیا تو یہ اجارہ فاسدہ کی کمائی ہے، اس صورت میں لازم ہے کہ وہ یہ آٹا مالک کو واپس کرے ، اجیر  کا  خود استعمال کرنا جائز نہیں ہے، البتہ وہ چوں کہ مالک کا آٹا پیس چکا ہے؛ اس لیے اپنی اجرت مثل وصول کرلے۔

تاہم اس معاملے کے جواز کی دو صورتیں ہیں:

1-  معاملہ کرتے وقت مطلقاً یوں کہے: ’’اجرت میں تمہیں ایک کلو آٹا دوں گا‘‘، یوں نہ کہے: اس آٹے میں سے دوں گا، جو تم پیسوگے۔  تو بھی اجارہ درست ہے اور اس آٹے کا استعمال کرنا بیچنا جائز ہے۔

2-  آٹا پیسنے سے پہلے ہی کچھ مقدار گندم وغیرہ کی علیحدہ کرکے دے دے کہ یہ تمہاری اجرت ہے، پھر اجیر خواہ اسے پیسے یا ویسے ہی اپنے استعمال میں لے آئے۔  تو یہ صورت بھی جائز ، اور اس آٹے کا استعمال بھی جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 56):
"(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان، وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفيزاً منه فيجوز، (وحكم الأول)  وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوماً، ابن كمال (بخلاف الثاني) وهو الباطل فإنه لا أجر فيه بالاستعمال حقائق (ولاتملك المنافع بالإجارة الفاسدة بالقبض، بخلاف البيع الفاسد) فإن المبيع يملك فيه بالقبض، بخلاف فاسد الإجارة، حتى لو قبضها المستأجر ليس له أن يؤجرها، ولو آجرها وجب أجر المثل ولايكون غاصبًا، وللأول نقض الثانية، بحر معزياً للخلاصة وفي الأشباه: المستأجر فاسداً لو آجر صحيحاً جاز وسيجيء".

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 467):
"وجميع ما كان فاسداً من ذلك إذا باع واشترى فله أجر المثل لايجاوز به المسمى، كما في سائر الإجارات الفاسدة، ويطيب له ذلك؛ لأنه بدل عمله فيطيب له كما تطيب قيمة المبيع للبائع في البيع الفاسد عند عجز المشتري عن رد العين؛ لأنه بدل ملكه، لكن يأثم بمباشرته هذا العقد؛ لأنه معصية".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55):
"وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالاً ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لايطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لايذهبون إلا بأجر ألبتة ط".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 57):
"(قوله: والحيلة أن يفرز الأجر أولاً) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل، ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولايكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه، كما في المنح عن جواهر الفتاوى. قال الرملي: وبه علم بالأولى جواز ما يفعل في ديارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً ولا شك في جوازه اهـ. (قوله: بلا تعيين) أي من غير أن يشترط أنه من المحمول أو من المطحون فيجب في ذمة المستأجر، زيلعي".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے