بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قضاء الفوائت بعد طلوع الفجر الثانی


سوال

هل تجوز صلاة الفائتة في العمر بعد طلوع الفجر؟

جواب

نعم، يجوز قضاء الفوائت بعد طلوع الفجر الثاني إلا أنّه يستحب أن يقضيها في البيت لا في المجامع.

الفتاوى الهندية - (2 / 262):
"تِسْعَةُ أَوْقَاتِ يُكْرَهُ فِيهَا النَّوَافِلُ وَمَا فِي مَعْنَاهَا لَا الْفَرَائِضِ، هَكَذَا فِي النِّهَايَةِ وَالْكِفَايَةِ. فَيَجُوزُ فِيهَا قَضَاءُ الْفَائِتَةِ وَصَلَاةِ الْجِنَازَةِ وَسَجْدَةِ التِّلَاوَةِ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ. مِنْهَا مَا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، كَذَا فِي النِّهَايَةِ وَالْكِفَايَةِ. يُكْرَهُ فِيهِ التَّطَوُّعُ بِأَكْثَرَ مِنْ سُنَّةِ الْفَجْرِ". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں