بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

پندرہ دن سے کم نیت کرکے پندرہ دن کی نیت کرے تو قصر کرے یا اتمام؟


سوال

میں گھر سے سفر پر نکلا اور میری نیت تھی کہ 15 دن سے کم رہوں گا،  لیکن اب میری نوکری لگ گئی تو مجھے یہاں 15 دن سے زیادہ گزارنے کا سوال پیدا ہوگیا۔ اب میرا کچھ کام بن گیا ہے اور 15 دن  بھی پورے نہیں ہوئے تو اب میں کون سی نماز پڑھوں؟

جواب

اصول یہ ہے کہ حالتِ سفر میں کسی جگہ جس وقت آئندہ پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کی جائے گی، اس کے بعد پوری نماز پڑھنی ہوگی اور اگر نیت یہ ہو  آئندہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنا ہو تو ایسی صورت میں قصر پڑھی جائے گی، چاہے گزشتہ دنوں کو ملا کر 15 دن سے زائد قیام کیوں نہ ہوجائے؛ لہذا اگر آپ کی اب 15 دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت ہے تو آپ پوری نماز پڑھیں گے، ورنہ قصر کریں گے۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (1 / 80):
"ولو دخل مصرًا على عزم أن يخرج غدًا أو بعد غد ولم ينو مدة الإقامة حتى بقي على ذلك سنين قصر" لأن ابن عمر رضي الله عنه أقام بأذربيجان ستة أشهر وكان يقصر وعن جماعة من الصحابة رضي الله عنهم مثل ذلك".

النتف في الفتاوى للسغدي (1 / 76):
"ويصير مقيماً بشيئين:
أحدهما إذا عزم علي إقامة خمسة عشر يوماً أين ما كان ..."
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے