بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

قصاب کتنے جانور ذبح کر سکتا ہے؟


سوال

قصاب اپنی زندگی میں کتنے جانور قربان کر سکتا ہے؟ اسلام میں اس کی کوئی لمٹ ہے؟

جواب

سائل کی مراد اگر اپنی جانب سے قربانی کی تعداد کےبارے میں دریافت کرنا ہے، تو شریعت مطہرہ نے قصاب یا غیر قصاب کے لئے کوئی تعداد متعین نہیں فرمائی ہے، البتہ مال دار شخص پر عید الاضحی کے دس، گیارہ ،بارہ ذی الحجہ کے تینوں دنوں میں سے کسی بھی دن ایک قربانی کو واجب قرار دیا ہے، واجب قربانی کے علاوہ حسب استطاعت جتنی قربانی کرنا چاہیں کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، البتہ اگر سوال کا مقصد قصابی کے پیشہ سے وابستہ افراد کے جانور ذبح کرنے کی تعداد دریافت کرنا ہے، تو شریعت مطہرہ نے ایسی کوئی تعداد متعین نہیں فرمائی ہے کہ اس تعداد کے مکمل ہونے کے بعد قصاب کے لئے مزید جانور ذبح کرنے کی اجازت نہ ہو، پس جب تک ہمت و طاقت ہو قصاب ذبح کر سکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ضرور لے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200963

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے