بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی تقسیم وراثت پر مقدم ہے


سوال

ایک شخص کا  انتقال ہوا،  اس پر کئی سالوں کی نماز اور روزے ہیں اور کافی قرضہ بھی ہے اور اس شخص نے وراثت میں بھی بہت تھوڑی سی رقم چھوڑی ہے۔اور ورثاء  کو قرض دار بھی نہیں معلوم۔ اب ان کے ورثاء  کیسے ان کا قرض اتاریں گے؟ اور نماز اور روزوں کا کیا فدیہ ہوگا؟

جواب

میت کے متروکہ مال میں سے تجہیز وتکفین کے بعد اس کا قرض ادا کیاجائے گا، اگر قرض کی ادائیگی کے بعد کچھ باقی بچتاہے تووہ ورثاء میں تقسیم ہوگا۔لہذا مرحوم کے مال میں سے اولاًقرض خواہوں کا قرض اداکیاجائے،اور قرض خواہوں کا فی الوقت علم نہ ہو تو اعلان کردیاجائے کہ مرحوم کے ذمہ جن جن لوگوں کا قرض ہے وہ مرحوم کے ورثاء سے رابطہ کرلیں۔قرض کی ادائیگی کے بعد باقی مال ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔اگر قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے  تو ورثاء کے لیے کچھ نہیں ہوگا، پھر اگر  قرض خواہ باقی ہوں تو اس صورت میں بقیہ قرض کی ادائیگی ورثاء پر لازم نہیں، البتہ اگر ورثاء مرحوم کےساتھ احسان کامعاملہ کرتے ہوئےاپنی جانب سے ان کا قرض اداکردیں تو عنداللہ امید ہے کہ مرحوم قرض کے معاملہ سے بری ہوجائیں گے۔

نیز چوں کہ مرحوم نے نماز ،روزوں سے متعلق فدیہ کی وصیت نہیں کی تو شرعاً ورثاء  پران کی نماز،روزوں کا  فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر ورثاء  از خود باہمی رضامندی سے مرحوم کے مال میں سے یااگر مرحوم کا مال نہ ہوتو اپنی  جانب سے ان کی نماز،روزوں کا فدیہ  ادا کردیں تو امید ہے کہ مرحوم آخرت کی باز پرس سے بچ جائیں گے۔

ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے ،اسی طرح ایک روزے کا فدیہ بھی ایک صدقہ فطر کے برابر ہے۔اور روزانہ وتر کے ساتھ چھ نمازیں ہیں تو ایک دن کی نمازوں کے فدیے  چھ ہوئے، اور ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کاآٹا یا اس کی قیمت ہے۔  فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے یعنی مسلمان فقیر جو سید اور ہاشمی نہ ہو اور صاحب نصاب بھی نہ ہو ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200354

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے