بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرض پر دیے گئے زیورات کی زکات کا حکم


سوال

اگر کوئی بیوی اپنے شوہر کو اپنے سونے کے زیورات دو سال کے لیے قرض دے اور شوہر ان کو بیچ دے جس سے اس کو ڈھائی لاکھ روپے ملے، کیا اس کی وجہ سے بیوی پر زکات فرض ہو گی یا نہیں؟ اگر شوہر لینے کے وقت سونے کی واپسی کا وعدہ کرے تو کیا حکم ہے؟ اور اگر اس کی قیمت کی واپسی کا عہد کرے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر مذکورہ خاتون کے پاس صرف یہی سونا ہو  اور اس کی مقدار ساڑھے سات تولہ سے کم ہو جیسا کہ اس کی قیمت سے معلوم ہوتا ہے اس کے علاوہ چاندی، کیش یا مال تجارت کچھ بھی نہ ہو  تو ایسی صورت میں مذکورہ خاتون پر  زکات واجب نہیں۔ اور اگر ان کے پاس اس سونے کے علاوہ بھی مال ہے جس سے وہ صاحبِ نصاب بن جاتی ہیں تو ایسی صورت میں جب وہ اپنے شوہر کو اپنا سونا بطورِ قرض دیتی ہیں اور اس کے واپس ملنے کی امید بھی ہے تو قرض واپس ملنے کی صورت میں ان پر زکات  کی ادائیگی لازم ہو گی خواہ وہ سونے کی شکل میں واپس کرےیا نقد کی صورت میں، دونوں صورتوں میں زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200918

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے