بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1441ھ- 06 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

قرض لینے جانے کاکرایہ لینا


سوال

قرض لینے جانے آنے کا کرایہ مقروض سے لے سکتا ہے یا نہیں ؟

اگر مقروض ٹال مٹول کرے تو کیا حکم ہے؟ 

جواب

کسی مسلمان کے کام آتے ہوئے قرض دینا کارِ ثواب ہے،  یہی وجہ ہے کہ قرض کا ثواب صدقہ سے زیاد بتایا گیا ہے، قرض کا مکمل معاملہ ہی احسان وتبرع پر مبنی ہے؛ لہذا قرض کے ساتھ ساتھ وصولی کے لیے جانے کا کرایہ کے اضافے کے ساتھ مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ تاہم باوجود استطاعت کے قرض میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔

صحیح بخاری ،  کتاب الاستقراض
"باب : ادائیگی میں مال دار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے "
حدیث نمبر : 2400
"حدثنا مسدد، حدثنا عبد الأعلى، عن معمر، عن همام بن منبه، أخي وهب بن منبه أنه سمع أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‏مطل الغني ظلم‏". 
ترجمہ: ۔۔۔ ہمام بن منبہ (وہب بن منبہ کے بھائی) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  مال دار کی طرف سے ( قرض کی ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں