بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے وجوب میں مہر موجل شوہر کے مال سے منہا نہیں ہوگا


سوال

اگر مہرموجل ہو تو قربانی کے لیے کیا نصاب سے نکال دیاجائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر مہر معجل ہو یا مؤجل عند الطلب ہو  یا محض مؤجل ہو اور شوہر اس کی ادائیگی کے لیے رقم جمع کرنے کی جستجوکر رہا ہو تو ان صورتوں میں مالی عبادات (زکاۃ، قربانی اور صدقہ فطر) کے واجب ہونے نہ ہونے کا فیصلہ اس مہر کے منہا کرنے کے بعد ہوگا ۔ البتہ اگر مہر مؤجل ہو  اور نہ  بیوی کی طرف سے  ادائیگی کا مطالبہ ہو اور نہ ہی شوہر ادا کرنے کی جستجو میں ہو تو ایسی صورت میں مذکورہ مہر منہا نہیں کیا جائے گا، پس صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالا تفصیل کو سامنے رکھ کر شوہر اپنے بارے میں فیصلہ کرلے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے