بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی نیت سے لیے گئے جانور کی خرید و فروخت کرنا


سوال

قربانی کی نیت سے لیے گئے جانور کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کی نیت سے خریدا ہوا جانور بیچنا مکروہ ہے، اگر کسی نے قربانی کا جانور  بیچ دیا تو اس سے حاصل ہونے والی قیمت کے صرف کے لیے درج ذیل صورتیں ہیں:

1۔ مکمل قیمت (بیچے گئے جانور کی سابقہ قیمت اور اس پر حاصل ہونے والے نفع) سے قربانی کا صحت مند اور اچھا جانور خرید لے۔

2۔ اگر ایک سے زائد جانور اس میں خریدے جاسکتے ہوں تو ایک سے زائد جانور قربانی کی نیت سے لے لے۔

3۔ ایک جانور قربانی کی نیت سےخریدنے کے بعد کچھ رقم بچ جائے تو اس میں مزید پیسے ملا کر دوسرا جانور قربانی کے لیے خریدلے۔

4۔ ایک جانور  قربانی کی نیت سے خریدلے، اور بقیہ رقم صدقہ کردے۔

واضح رہے کہ قربانی کا جانور بیچنے کے بعد نفع میں حاصل ہونے والی رقم خود استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

'' و منهم من أجازهما للغني، والجواب: أن المشتراة للأضحیة متعینة للقربة إلی أن تقام غیرها مقامها، فلا یحل له الا نتفاع بها ما دامت متعینةً، ولهذا لا یحل له لحمها إذا ذبحها قبل وقتها. بدائع. و یأتي قریباً: أنه یکره أن یبدل بها غیرها، فیفید التعین أیضاً. ''( رد المحتار، کتاب الأضحیة ۶/ ۳۲۹ ط سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں