بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا جانور فروخت کرنا


سوال

ایک آدمی نے قربانی کےلیے بکرا متعین کیاہواتھا، اب اس آدمی نے وہ بکرا فروخت کردیا ہے، اور اس سےکم قیمت میں گائے میں حصہ ڈال دیا ہے توآیا اس کا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو پیسے بچ گئے ہیں ان کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کے جانور کو متعین کرنے کے بعد اگر اسے فروخت کردیاہے اورحاصل شدہ رقم سے کم رقم قربانی کے جانور میں بطور حصہ ڈالی ہے تو  زائد رقم صدقہ کردی جائے۔(فتاوی ہندیہ 5/302رشیدیہ)

یا اگر وہ رقم اتنی ہی کہ اس سے دوسرا حصہ لیا جاسکتاہے تو دوسرا حصہ لے لے، یا اس میں مزید رقم ملا کر دوسرا حصہ لے لے۔ بچ جانے والی رقم خود استعمال نہ کرے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201634

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے