بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

قراءت کا معنی اور مصداق


سوال

قراءت کے لغوی معنی کیا ہیں؟ جماعت کی نماز سے متعلق امام کی قراءت کے بارے میں احادیث میں جو  قراء ت کا لفظ آیا ہے،  کیا وہ صرف جہری نمازوں کے لیے ہے؟ کیا سری نماز میں امام کے قرآن پڑھنے کو بھی قراءت کہا جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

قراءت کا لغوی معنیٰ ہے تلاوت کرنا، قراءت کے تحقق کے لیے جہراً پڑھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ سری تلاوت کو بھی قراءت کہا جاتاہے۔

جن نصوص میں قراءت کے دوران خاموش رہنے کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد سری اور جہری دونوں نمازیں ہیں؛  اس لیے دونوں قسم کی نمازوں میں مقتدی کے لیے حکم ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (33/ 46):
"التعريف:
1 - القراءة في اللغة: التلاوة، يقال قرأ الكتاب قراءةً وقرآنًا: تتبع كلماته نظرًا، نطق بها أو لم ينطق". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200470

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے