بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قرآن کریم پر رکھے ہوئے کپڑے اور کاغذ کے ساتھ ہاتھ لگانے کا حکم


سوال

قرآن مجید کے صفحے پر کپڑا یا کاغذ کا ٹکڑا رکھا ہو تو کیا بغیر وضو کے اس کو ہاتھ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

قرآن کریم کے صفحے پر جو کپڑا ( جزدان وغیرہ) یا قرآن کے ساتھ جڑے صفحات کے علاوہ الگ صفحہ رکھا ہوا ہو، اس کو بلا وضو ہاتھ لگانا جائز ہے۔ 

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا. حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَبِهِ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ قَالُوا : يَقْرَأُ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، وَلَا يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ. (سنن الترمذي، رقم الحديث: ١٤٦) 

وقال القاري في شرح قوله: لا يمس القرآن إلا طاهر ما لفظه: بخلاف غيره كالجنب والمحدث فإنه ليس له أن يمسه إلا بغلاف متجاف، وكره بالكم. 
قال الطيبي بيان لقوله تعالى: {لا يمسه إلا المطهرون}: فإن الضمير إما لـ القرآن والمراد نهي الناس عن مسه إلا على الطهارة وإما لـ اللوح، ولا نافية، ومعنى المطهرون الملائكة فإن الحديث كشف أن المراد هو الأول ويعضده مدح القرآن بالكرم وبكونه ثابتا في اللوح المحفوظ فيكون الحكم بكونه لا يمسه مرتبا على الوصفين المتناسبين للقرآن. انتهى ما في المرقاة.(تحفة الأحوذي) فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144105201080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں