بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والے کا حکم


سوال

قرآن شریف کی بے حرمتی کرنا گناہ ہے پس اگر کوئی شخص قرآن کو اٹھا کر زمین پر پھینکے یا زمین پر مارے  یا شہید کرے یا جلادے پھر اس کے بعد کلمہ بھی پڑھے اور توبہ کرے تو ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،  صورت مسئولہ میں قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے کی وجہ سے مذکورہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا تھا، البتہ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا اور سچے دل سے اپنے کیے  پر توبہ کرلی تو اس کو مسلمان ہی قرار دیا جائے گا، البتہ اگر وہ شادی شدہ تھا تو تجدیدِ نکاح کرنا بھی ضروری ہوگا۔ فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 143903200068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے