بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

قرآنی قرائتوں کے متعلقہ چند سوالات


سوال

اختلاف قراءت سے متعلق مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں علما کیا فرماتے ہیں :

 1۔لہجوں کا اختلاف تو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن بعض مقامات پر الفاظ اور معانی بھی بدل جاتے ہیں جیسے: سورہ یوسف میں’’ یرتع ویلعب‘‘ کی ایک قراءت ’’وترتع وتلعب‘‘ ہے، بقول ابن کثیررحمہ اللہ اسی طرح  سورہ یوسف آیت ۱۱۰ میں ہے: ’’وظنوا انھم قد کذبوا ‘‘اسے حضرت عائشہ رض شد کے ساتھ پڑھنے کو سختی سے کہا کرتیں تھیں۔

 کیا یہ قراء تیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں؟

اور ایک قرءت کو دوسری پر ترجیح کی کیا وجہ ہے؟

مذاہب اربعہ میں سب قراءتیں ہیں یا وہاں بھی کسی ایک کو دوسری پرترجیح ہے ؟

جواب

۱۔ بہت سی صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم ’’سات حروف‘‘ پر اتارا گیا ہے، اس سے مراد وہ قراءتیں ہیں جو تواتر کے ساتھ منقول چلی آرہی ہیں، البتہ  تفصیل میں علما کی دو رائیں ہیں، بعض اہل علم کی تحقیق کے مطابق یہ قراءتیں ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں، جبکہ دیگر علما کا کہنا ہے کہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں، دونوں اقوال میں تطبیق کی صورت یوں بتائی گئی ہےکہ قرائتوں کے نزول کا آغاز تو قرآن کریم کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ میں ہی ہوچکا تھا، لیکن مکہ میں زبان کے ایک ہونے کی بنا پر  انکے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی، مدینہ میں جب لہجوں اور زبانوں کے بولنے والے قبائل اسلام میں داخل ہونے لگے تو ان کا استعمال بھی ہونے لگا،  معلوم ہوا کہ ان قرائتوں کا ثبوت رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم سے ہے۔ یہاں یہ پہلو بھی واضح رہے کہ متواتر قرائتوں کی قبولیت کے لیے یہ شرط ہے کہ عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو، رسم عثمانی کےموفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ یہی’’ قراءات سبعہ متواترہ‘‘ کہلاتی ہیں، اور جن قرائتوں میں ان تینوں میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی جائے وہ ’’شاذ ‘‘کہلاتی ہیں۔ امام ابن جزری رحمہ اللہ نے ان قراات کے فوائد اور حکمتوں پر تفصیلی کلام کیا ہے۔

 ۲۔ مذکورہ تفصیل سے ہوا کہ قراءات کی دو قسمیں ہیں، اب  ان میں سے متواترکی شاذ پر ترجیح  واضح ہے، مزید براں علما نے ’’علم الاحتجاج‘‘ کے نام سے ایک مستقل علم کی بنیاد ڈالی ہے، جس میں لغت وعربیت کے پہلو سےان قراءات کی علل و توجیہات  کی تحقیق کی جاتی ہے، اور ترجیح کے معیارات قائم کیے گئے ہیں، موضوع سے متعلقہ کتب میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ 

۳۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ، امام عاصم کوفی رحمہ اللہ کی قراءت کو ترجیح دیتے ہیں، باقی ائمہ عموما روایت حفص کو ترجیح دیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔


فتوی نمبر : 143705200023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں