بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قرآنی بوسیدہ اوراق کو دفن کرنا بہتر ہے


سوال

 حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام بارہا پڑھنے کو ملا ہے کہ قرآنی اوراق کو دریا میں نہ بہائیں اور زمین میں دفن کر دیں، میرا سوال یہ ہے کہ ان مقدس قرآنی اوراق کو دریا /سمندر میں بہا دینا درست ہے یا زمین میں دفن کر دینا چاہیے اور بہتر طریقہ کیا ہے؟

جواب

قرآنِ مجید کےوہ  اوراق جو  بوسیدہ ہونے کی وجہ سے تلاوت کرنے کے قابل نہ رہیں، انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ میں جہاں لوگوں کی آمد و رفت بالکل نہ ہو یا کم ہو، دفن کردیا جائے جیسا کہ مسلمان میت کو دفن کیا جاتا ہے، موجودہ زمانے میں چوں کہ قرآنِ مجید کے اوراق پرنٹڈ ہوتے ہیں، پانی میں بہانے کے باوجود لکھائی نہیں مٹتی؛  اس لیے پانی میں بہانے سے گریز کیا جائے، اگر دفنانے کی کوئی صورت نہ ہو اور پانی میں بہانا ہو تو اس کی بہتر صورت جو کہ فتاوی رحیمیہ(۳/ ۱۳، ط:دارالاشاعت کراچی)میں لکھی ہے یہ ہے کہ قرآنی بوسیدہ اوراق کے ساتھ کوئی وزنی شے باندھ دی جائے اور اسے بہتے ہوئے گہرے پانی میں یا کنویں کی تہہ میں احترام کے ساتھ پہنچادیا جائے، خلاصہ یہ ہے کہ قرآنی بوسیدہ اوراق کو دفن کرنا پانی میں بہانے سے بہتر ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (6 / 422):
"وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقاً وتعذر القراءة منه لايحرق بالنار، إليه أشار محمد، وبه نأخذ، ولايكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف، وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لاتصل إليه يد محدث ولا غبار ولا قذر تعظيماً لكلام الله عز وجل اهـ".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200590

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں