بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

قبر کے پاس ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا


سوال

کیا قبر کے پاس ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے؟ اگر ہے تو قبر کے کس جانب کھڑے ہو کر دعا کرنی چاہیے؟

جواب

بعض مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے، لیکن ان مواقع پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر دعا فرماتے تھے۔

قبر کی طرف رخ کر کے دعا مانگنے میں صاحبِ قبر سے مانگنے کا شبہ ہو سکتا ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ   قبر پر جاکر دعا کرنی ہو تو  ہاتھ اٹھائے بغیر  ہی دعا کرلے، اور اگر ہاتھ اٹھاکر دعا کرنی ہو تو  قبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعا کرلی جائے؛ تاکہ قبر یا صاحبِ قبر سے مانگنے کا شبہ نہ ہو۔

ملفوظات حکیم الامت میں ہے:

”قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا نہ مانگنا چاہیے، حتی کہ دفن کے وقت بھی انتظامِ شریعت اسی میں ملحوظ ہے؛ تا کہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو جائے کہ مردہ سے حاجت مانگی جاتی ہے“ ۔(11/164، ط:تالیفات اشرفیہ)

الفتاوى الهندية (5 / 350):
"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى".

فتح الباري لابن حجر (11/ 144):
"وفي حديث بن مسعود رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي النجادين، الحديث، وفيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعاً يديه، أخرجه أبو عوانة في صحيحه". 
 فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144107200194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں