بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

قبرستان پر مدرسہ بنانا


سوال

میرے باپ دادا کا قبرستان سڑک کے کنارے ہے،  جو رقبے میں دس مرلے کے برابر ہے،  میں چاہتا ہوں کہ اس قبرستان کے اوپر لینٹر ڈال کر اس کے اوپر کوئی دینی مدرسہ یا مکتبہ بنا لوں ۔ جہاں پر کتابوں اور قرآن کے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ ہو جائے ۔ یہ کام کرنا دین کی نظر میں کیساہے؟

جواب

اگر قبرستان   وقف ہے  تو اس  پر چھت ڈال کر مدرسہ بنانا جائز نہیں ہے۔ اگر قبرستان وقف شدہ نہیں  ہے، بلکہ مملوکہ زمین ہے تو اجازت ہے۔

قال في التبیین:

"ولو بلي المیت وصار تراباً، جاز دفن غیره في قبره، وزرعه، والبناء علیه". (تبیین الحقائق: ۲۴۶/۱)

 عینی شرح بخاریمیں ہے:

"قال ابن القاسم: لو أن مقبرةً من مقابر المسلمین عفت فبنی فیها مسجدًا لم أر بذلك بأسًا". (إمداد الفتاوی: ۲/۶۰۰) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200487

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں