بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

قاری کی قرآت کے دوران بآواز سبحان الله کہنا


سوال

قاری کی قراءتکے دوران بآوازسبحان الله، الحمد لله، الله أكبرکہہ کرچلانا کیسا ہے?

جواب

ذکر یا تلاوت کے وقت چلانا کسی بھی حال میں پسندیدہ نہیں ہے، ایسا کرنا قرآنِ کریم  کے ادب کے خلاف ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔البتہ کلماتِ ذکر اور قرآنِ مجید کے ادب کا پس رکھتے ہوئے آہستہ یا مناسب آواز میں کہہ کر داد دینے میں حرج نہیں۔

قرآن مجیدمیں ہے:

{وَإِذَا قُرِيَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَانْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ}

یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔ (پارہ 9 سورہ الاعراف آیت 204) 

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"رفع الصوت عند سماع القرآن والوعظ مكروه، وما يفعله الذين يدعون الوجد والمحبة لا أصل له، ويمنع الصوفية من رفع الصوت وتخريق الثياب". ( 5 کتاب الکراھیۃ، باب الرابع فی الصلاۃ الخ صفحہ 319) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200175

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں