بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قادیانی سے میل ملاپ رکھنا اور اس کے لحاظ میں مرزا قادیانی کے دجل کو بیان نہ کرنا


سوال

میں ایک فیکٹری میں جاب کرتا ہوں، جہاں میرا باس ایک قادیانی شخص تھا، وہ اخلاقیات کے لحاظ سے بہت آگے تھا،  اس نے ہر مشکل موقع پر میری مدد کی،  لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے اس سے اس کے عقائد کی وجہ سے اختلاف ہو گیا،  لیکن اس کے باوجود ہمارے تعلقات ویسے ہی رہے،  یہاں تک کہ وہ کسی دوسری جگہ چلا گیا اور تمام تر اختلافات کے باوجود اسے نے مجھے کہا کہ مجھے جب بھی کوئی مسئلہ ہو میں اسے بتاؤں،  میں جس فیلڈ میں ہوں  میں اس میں صرف اسے ہی سب سے زیادہ جانتا ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں اس فیکٹری میں اس کے جانے کے  بعد  سے بہت پریشان ہوں،  لیکن میں نے کبھی اسے فون نہیں کیا،  میری تنخواہ ہزاروں میں جب کہ اس کی لاکھوں میں ہے،  اس کا فون آتا ہے،  لیکن میں ادھر ادھر کی بات کر کے بند کر دیتا ہوں:

(1)اب سوال یہ ہے کہ ہم دونوں فیس بک پر نعو ذ باللہ فرینڈ ہیں،  مجھے میرے جاننے والے کہتے ہیں  کہ جب تک تم اسے ان فرینڈ نہیں کرو گے تم کافر رہو گے،  کیا واقعی ایسا ہے؟

(2) مجھے میرے دوست کہتے ہیں تم اپنی آئی ڈی سے قادیانی کافر اور مرزا پر لعنت والی پوسٹ کرو،  میں ایسا نہیں کرتا،  کیوں کہ پھر اس کے کمنٹ آنا شروع ہو جاتے ہیں،  کیا ایسی پوسٹ نہ کرنے کی صورت میں میرے ایمان کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جب کہ میں دل سے مرزا اور اس کے ماننے والوں کو بدترین کافر سمجھتا ہوں؟

(3) ہم نے 8 سال تقریباً ساتھ گزارے ہیں،  ساتھ کھایا ساتھ پیا، ہر جگہ ساتھ رہے،  اب میرا تعلق اس سے نہ ہونے کے برابر ہے  بس مجبوری کا،  کبھی کبھار میری پوسٹ سے وہ بہت تکلیف میں آ جاتا ہے کیوں کہ 1 ٹائم ایسا تھا میں اسے کہتا تھا کہ سر یہ کیا بات ہوئی، اگر آپ کو کسی سے اختلاف ہے تو آپ اسے سر عام کافر کہیں اور اس کے مذہبی پیشوا کو فیس بک پر لعنت دیں، لیکن آج میرے مخلص دوست اور لوگ  یہی کہتے ہیں  کہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے مجھے ایسا کر نا ہو گا،  لیکن تمام تر نفرت کے باوجود میں چاہتا ہوں کہ بس بہت زیادہ سخت پوسٹ نہ کروں، کبھی کبھار فون آئے تو ریسیو کر لوں،  کیا اس کی کوئی گنجائش ہے؟

(4) کیا اس کی کوئی گنجائش ہے کہ میں بجائے صرف اسے ان فرینڈ کرنے کے اپنا فیس بک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دوں؟

  سوال کی طوالت کے لیے بہت معذرت خواہ ہوں، امید ہے آپ تمام سوالوں کا الگ الگ جواب مرحمت فرمائیں گے!

جواب

واضح رہے کہ قادیانی نبی آخر الزماں محمد  مصطفی احمد مجتبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت  کے منکر ہونے کی وجہ سے دائر اسلام سے خارج اور مرتد و زندیق ہیں، اس کےباوجود  وہ  دجل و فریب کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان قرار دے کر سادہ لوح مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہیں، قادیانیوں سے کسی قسم کا میل جول رکھنا تحفہ تحائف کا تبادلہ اور ان سے مدد حاصل کرنا شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں ہے،ان سے دوستی ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اس لیے کہ ان کا طریقہ واردات سادہ لوح مسلمانوں کے غم خوار و مدد گار بن کر ان کے ایمان پر ڈاکا ڈالنا، اور مسلمانوں کے دلوں میں اپنے لیے ہم دردی کے جذبات اجاگر کرکے رفتہ رفتہ ان کے ایمان کا سودا کرنا ہے، لہذا ان سے دوستی رکھنا یا انہیں اپنا معین و مددگار و غم خوار سمجھنا، ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے، پس مذکورہ قادیانی شخص نے آپ پر جو احسانات کیے تھے اگر وہ کمپنی کے پیسوں اور کمپنی کے قانون کے مطابق نہیں تھے، بلکہ اس نے اپنی ذاتی حیثیت سے اپنے مال سے کیے تھے تو اگر آپ کے بس میں ہو تو وہ احسانات لوٹادیں؛ تاکہ اس سے معاشرت قائم نہ ہو یا کسی غریب کو دے دیں۔ البتہ اس کے حق میں دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالی اس کو  ہدایت نصیب فرمائے اور اسلام کی توفیق عطا فرمائے!

1۔ اگر آپ ختم نبوت کے اقراری اور غلام احمد قادیانی ملعون کو دائرہ اسلام سے خارج، کذاب اور اس کے ماننے والوں کو مرتد و زندیق سمجھتے ہیں تو آپ دائرہ اسلام سے خارج نہیں۔ تاہم اس کے تائب نہ ہونے کی صورت میں آپ اسے اَن فرینڈ کردیں، یہی ختمِ نبوت پر کامل ایمان کا تقاضا ہے۔

2۔ 3۔ مرزا قادیانی ملعون کے دجل و فریب کو اجاگر کرنا مسلمانوں پر شرعاً و اخلاقاً  لازم ہے، تاکہ سادہ لوح مسلمان اس فتنہ سے آگاہ ہو سکیں، اور ان سے میل جول رکھنے اور ان کا آسان ہدف بننے سے بچ سکیں، پس فیس بک پر مرزا قادیانی ملعون کے کفر کا اظہار صرف اس خوف سے نہ کرنا کہ فلاں قادیانی کو تکلیف ہوگی خطرہ کی علامت ہے، اس وجہ سے جس فورم پر بھی موقع ملے اس فتنہ کے سد باب کے لیے قادیانی خباثتوں و دجل کو عوام میں اجاگر کرنا مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے۔ تاہم اس کے لیے صرف لعنت والی پوسٹ ضروری نہیں ہے۔ 

4۔ اگر آپ صرف اس شخص کو ان فرینڈ کرنے کے بجائے فیس بک اکاؤنٹ ہی ڈیلیٹ کردیتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے۔ جہاں تک فیس بک کے استعمال کا تعلق ہے تو اسے جان دار کی تصاویر وغیرہ سے بچتے ہوئے دینی مقاصد و ناموسِ رسالت کی حفاظت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، فضولیات و لغویات کے لیے فیس بک کا استعمال جائز نہیں۔ فیس بک کے استعمال کے حوالہ سے ضابطہ یہ ہے کہ: کوئی بھی ایسا کام جو آگے چل کر فتنہ وفساد کا ذریعہ بنے اس سے اجتناب کرناضروری ہے، خصوصاًجب کہ وہ فتنہ مذہبی رخ اختیارکرلےتو مزید احتیاط کی ضرورت ہے، نیزویڈیواورفوٹووغیرہ جس طرح خود بنانا اورکھینچنا حرام ہیں اسی طرح کسی اورکی بنائی ہوئی ویڈیو یا تصاویر شائع کرنا اوراس کو پھیلانا بھی شرعاً ممنوع ہے۔ مزیدیہ کہ فیس بک کس وناکس کواظہارِخیال کی آزادی کا پلیٹ فارم فراہم کرتاہے جس میں باطل عقائد و نظریات والےلوگ کم زوراہلِ ایمان کے ایمان پرڈاکا ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منظم کام بھی کررہے ہیں اس لیے احتیاط اسی میں ہے ایسے تالاب میں کودنے سے اجتناب کیا جائے، جہاں خود کےڈوبنےکاخدشہ ہو، ہاں اگرکوئی شخص اپنے ایمان اور عقائد میں اس قدر مضبوط ہو کہ وہ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود دوسروں کے لیے ہدایت وراہ نمائی کا ذریعہ بن سکتا ہو توحدودِ شرع میں رہتے ہوئے اس پلیٹ فارم کواستعمال کرنے کی گنجائش ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201538

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے