بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں سے خرید وفروخت اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کا حکم


سوال

قادیانیوں کو کچھ فروخت کر نا اور کمائے ہوئے  نفع کا کیا حکم ہے؟

جواب

قادیانیوں /مرزائیوں سے خریدوفروخت ،تجارت، لین دین ،سلام و کلام ، ملنا جلنا، کھانا پینا ، شادی و غمی میں شرکت، جنازہ میں شرکت،تعزیت،عیادت، ان کے ساتھ تعاون یاملازمت سب شریعتِ اسلامیہ میں سخت ممنوع اور حرام ہیں۔  قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے محبت کی نشانی ہے، لہذا کسی قادیانی کے ہاتھ  اپنا سامان فروخت کرنا جائز نہیں، اگر کسی غلط فہمی میں ایسا ہوگیا تو اس پر توبہ واستغفار کریں، باقی اس سے جو نفع حاصل ہوا وہ حرام تونہیں ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے استعمال نہ کریں؛ تاکہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے