بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

فیس بک پر تصویر لگانے یا دیکھنے کا حکم


سوال

کیا فیس بک پر کوئی تصویر دیکھنا یا لگانا جائز ہے؟

جواب

کسی شدید ضرورت کے بغیر جان دار  کی تصویر بنانا، کھنچوانا، یا استعمال کرنا ناجائز اور حرام ہے، اور اسی طر ح جان دار اشیاء  کی تصاویر  دیکھنا  بھی جائز نہیں ہے، تصویر  اگر عورت کی ہے یا اس میں کسی کا ستر واضح ہو تو  اس میں بد نظری   کا گناہ بھی ہوگا۔ اور اگر تصویر  عورت کی نہ ہو، اور اس میں کسی کا ستر  نظر نہ آرہا ہو  لیکن دیکھ کر فرحت یا لذت محسوس ہو تو بھی ناجائز ہے کہ حرام چیز کو دیکھ کر خوش ہونا بھی ناجائز ہے، اسی لیے تصاویر کو تلف کرنے کا حکم ہے۔البتہ اگر ارادے کے بغیر اس پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں حرج نہیں، لہذا فیس بک پر تصاویر لگانا یا قصداً  تصویر دیکھنا جائز نہیں ہے، نیز  متعدد دینی،اخلاقی، اور شرعی مفاسد اور خرابیوں میں ابتلا کے قوی امکان کی وجہ سے فیس بک کے استعمال سے اجتناب بہتر ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200842

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے