بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فون پر نکاح کا حکم


سوال

 ایک لڑکے اور لڑکی نے فون پر نکاح کیا، لڑکے کے پاس 2 ایسے گواہ موجود تھے جو لڑکی اور لڑکے کو پہچانتے بھی ہیں،  لڑکا لڑکی دونوں نے گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کیا موبائل کا سپیکر کھلا تھا تو کیا ان دونوں نکاح شرعاً درست ہے؟

جواب

اگر دولہا، دولہن اور گواہ میں سے کوئی ایک  بھی نکاح کی مجلس میں موجود نہ ہو، اور نہ ہی دولہا، یا دولہن نے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا ہو، جو وکیل اس مجلسِ نکاح میں موجود ہو، تو اس صورت میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ صرف موبائل پر قبول کہہ دینا کافی نہیں۔ مسئولہ صورت میں سوال سے واضح ہے کہ لڑکی مجلسِ نکاح میں موجود نہیں تھی، اور اس نے اپنا وکیل بھی نہیں بنایا تھا جو مجلسِ نکاح میں موجود ہوتا، لہٰذا مذکورہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا۔

"وشرط حضور شاهدین الخ ، سامعین قولهما معًا علی الأصح". ( الدر المختار ۳ ؍ ۷۵ بیروت )فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے