بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 جُمادى الأولى 1441ھ- 26 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

فون پر نکاح کرنا


سوال

اگر کوئی  شخص بغیر وکیل کے دو گواہ کی موجودگی میں فون پر نکاح کرے اور نکاح کے بعد خلوتِ  صحیحہ ہو جائے تو کیا نکاح ہو  جائے  گا؟ اور اگر نہیں تو ایسے نکاح میں دی گئی  طلاق کی کیا اہمیت ہوگی؟   کیا  انہیں بھی دوبارہ رجوع کے لیے حلالہ  کرنا پڑے گا؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب اور قبول(لڑکے اور لڑکی کی طرف سے نکاح کے  الفاظ) ایک  مجلس میں ادا کیے جائیں، اور فون پر ایجاب و قبول کی صورت میں چوں کہ مجلس ایک نہیں ہوتی، اس  لیے فون پر کیا گیا نکاح درست ہی نہیں ہوتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ نکاح فون پر کیا گیا ہے؛ اس لیے یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا،  اور جب نکاح ہی نہیں ہوا تھا تو  اس کے بعد  دی ہوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی،  دونوں ایک دوسرے کے  لیے اجنبی ہیں،  از سرِ نو نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔  لیکن نکاح کے بغیر جو خلوتِ صحیحہ میں ساتھ رہے ہیں وہ ناجائز تھا،  اس پر سچے دل سے خوب توبہ و استغفار کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے