بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

فوجی دستہ تربیت کے لیے غیر آباد جگہ میں قیام کرے تو مسافر ہوگا یا مقیم؟


سوال

اگر کوئی فوجی دستہ تربیت کے لیے چھاؤنی سے نوے کلومیٹر دور کسی غیرآباد جگہ میں پندرہ دن سے زائد قیام کی نیت سے رہتا ہے، اس جگہ کوئی مستقل رہائشی مکانات نہیں، فوجیوں نے اپنے خیموں میں قیام کرنا ہے تو ایسی صورت میں ان کی نماز کا کیا حکم ہے وہ پوری نماز پڑھے یا قصر کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ جگہ کسی شہر یا بستی کے تابع نہیں ہے، بلکہ غیر آباد اور بیابان ہے تو یہاں اقامت کی نیت معتبر نہیں ہے ، لہذا فوجی اپنے چھاؤںی سے نوے کلومیٹر  دور اگر ایسی غیر آباد جگہ پر پندرہ دن سے زیادہ بھی رہیں تو بھی مسافر ہی رہیں گے اور نماز قصر کریں گے۔

الفتاوى الهندية (1/ 139):
"قال شمس الأئمة الحلواني: عسكر المسلمين إذا قصدوا موضعاً ومعهم أخبيتهم وخيامهم وفساطيطهم فنزلوا مفازة في الطريق ونصبوا الأخبية والفساطيط وعزموا فيها على إقامة خمسة عشر يوماً لم يصيروا مقيمين؛ لأنها حمولة وليست بمساكن، كذا في المحيط".
البحر الرائق (2/ 142):
"وقيد بالبلد والقربة؛ لأن نية الإقامة لاتصح في غيرهما فلاتصح في مفازة، ولا جزيرة ولا بحر، ولا سفينة، وفي الخانية والظهيرية والخلاصة: ثم نية الإقامة لاتصح إلا في موضع الإقامة ممن يتمكن من الإقامة، وموضع الإقامة العمران والبيوت المتخذة من الحجر والمدر والخشب لا الخيام والأخبية والوبر اه". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں