بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فطرہ کی رقم کا وکیل سے کھو جانا


سوال

فطرے کے پیسے کسی نے مجھے دیےتھے  کہ کسی غریب کو دے دو، لیکن وہ مجھ سے کھو گئے ہیں ، کیا اب میں اپنے پیسوں میں سے دے سکتا ہوں؟

جواب

 اگر یہ رقم آپ کے پاس سے آپ کی غفلت اور حفاظت میں کوتاہی  کی وجہ سے کھوئی ہےتو اس کی ادائیگی آپ کے ذمہ ہے، آپ اصل مالک کو بتائیں اور اس کی اجازت سے اس قدر رقم اپنے پاس سےکسی مستحقِ زکات کو ادا کردیں، اس سے  آپ بری الذمہ ہو جائیں گے۔

اور اگر اس میں آپ کی غفلت نہیں تھی، بلکہ حفاظت کی پوری کوشش کے باوجود رقم کھوگئی تو  اس کی ادائیگی کی  ذمہ داری آپ پر نہیں، البتہ اصل مالک کو بتادیجیے؛ تاکہ وہ خود کسی مستحق کو اتنی رقم دے دے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201390

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے