بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ناک میں میل جم جائے تو فرض غسل میں اس کی صفائی ضروری ہے


سوال

غسل کے 24  گھنٹے  گزرنے  کے  بعد پتا چلا کہ ناک میں کچھ میل جم جانے کی وجہ سے ناک کےاندر میل کے نیچے کی جگہ سوکھی رہ گئی ہوگی تو کیا اب صرف ناک میں پانی ڈالنا کافی ہے یا مکمل غسل کرنا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ناک میں میل جم  کر خشک ہو گیا تھا اس طور پر کہ غسل   کے دوران نیچے پانی نہ پہنچ سکا اور نہ ہی اس غسل کے بعد وضو کے دوران پانی پہنچا ہو تو اس صورت میں غسل نہ ہوا، میل کچیل صاف کرکے ناک میں پانی ڈالنا ضروری ہوگا، پورے غسل کا اعادہ ضروری نہیں ہے۔

تنوير الابصار مع الدر، و الرد میں ہے:

(وَفَرْضُ الْغُسْلِ) ...(غَسْلُ) كُلِّ (فَمِهِ) ...(وَأَنْفِهِ) حَتَّى مَا تَحْتَ الدَّرَنِ (وَ) بَاقِي (بَدَنِهِ).

و في الشامية:

(قَوْلُهُ: حَتَّى مَا تَحْتَ الدَّرَنِ) قَالَ فِي الْفَتْحِ: وَالدَّرَنُ الْيَابِسُ فِي الْأَنْفِ كَالْخُبْزِ الْمَمْضُوغِ وَالْعَجِينِ يَمْنَعُ. اهـ. وَهَذَا غَيْرُ الدَّرَنِ الْآتِي مَتْنًا، وَقَيَّدَ بِالْيَابِسِ لِمَا فِي شَرْحِ الشَّيْخِ إسْمَاعِيلَ أَنَّ فِي الرَّطْبِ اخْتِلَافَ الْمَشَايِخِ كَمَا فِي الْقُنْيَةِ عَنْ الْمُحِيطِ". ( الشامیة، كتاب الطهارة، فرض الغسل، ١ / ١٥١ - ١٥٢)

"مَطْلَبُ سُنَنِ الْغُسْلِ. (قَوْلُهُ: وَسُنَنُهُ) أَفَادَ أَنَّهُ لَا وَاجِبَ لَهُ ط. وَأَمَّا الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ فَهُمَا بِمَعْنَى الْفَرْضِ؛ لِأَنَّهُ يَفُوتُ الْجَوَازُ بِفَوْتِهِمَا، فَالْمُرَادُ بِالْوَاجِبِ أَدْنَى نَوْعَيْهِ كَمَا قَدَّمْنَاهُ فِي الْوُضُوءِ". ( شامی،كتاب الطهارة،  سُنَنُ الْغُسْلِ، ١ / ١٥٦) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201813

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں