بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

فجر کے اذان سے پہلے مسجد کی مائک سے لوگوں کو پکارنا


سوال

فجر کے اذان سے پہلے مسجد کی مائک سے لوگوں کو پکارنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

اذان سے پہلے لوگوں کو پکارنا سنت یا عباراتِ فقہاءِ کرام سے ثابت نہیں،  نیز اذان اسی مقصد کے لیے ہے کہ لوگوں کو  نماز کی طرف متوجہ کیا جائے، لہٰذا فجر کی اذان سے پہلے مسجد کے مائک سے لوگوں کو پکارنے کی نہ ضرورت ہے نہ ہی یہ درست ہے، اگر اس کو ضروری اور اذان کا حصہ سمجھا جانے لگے  تو بدعت اور ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201033

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے